رسائی کے لنکس

چین: بچوں سے جنسی زیادتی کے مجرم ٹیچر کی سزائے موت پر عملدرآمد


فائل فوٹو

فائل فوٹو

لی جشون جس کی عمر 60 سال کے قریب بتائی جاتی ہے، نے اپنے اسکول میں 2011 اور 2012 کے درمیان ان جرائم کا ارتکاب کیا۔

چین میں ایک اسکول ٹیچر کو بچوں سے جنسی زیادتی کے جرم میں گزشتہ ہفتے سزائے موت دے دی گئی۔

اسکول ٹیچر نے دوسال کے عرصے میں 4 سے 11 سال کی عمر کے 26 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ۔ اس سے قبل دو دوسرے اساتذہ کو بھی اسی طرح کے جرم میں سنائی گئی سزائے موت پر عملدرآمد کیا جا چکا ہے۔

اسکول ٹیچر کو پھانسی دیئے جانے کے بعد چین میں سماجی حلقوں میں بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کے واقعات سے نمٹنے کے حوالے سے بحث ہو رہی ہے۔

ہانگ کانگ یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ایڈورڈ کولنگ چن کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سخت سزاؤں سے ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا حکام بچوں کے خلاف جرائم سے نمٹنے کے بارے میں کتنے سنجیدہ ہیں۔

چن نے حال ہی میں ''چینی معاشرے میں بچوں کے تحفظ: درپیش چیلنج اور پالیسیوں" کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔

چن نے کہا کہ دوسرے ملکوں کی طرح چین میں بھی قوانین موجود ہیں تاہم شاید ان کو تمام جرائم کے کیسوں میں استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔

"عوام کا طرز عمل اور انصاف کے ںظام کا طریقہ کار ان کے نفاذ میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم اس مقدمے میں موجود فوجداری انصاف کے نظام کا ردعمل اس طرز عمل میں کسی تبدیلی کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ یہ صرف ایک بہت ہی سنگین جرم کے خلاف ایک ردعمل کا اظہار ہے"۔

سرکاری میڈیا پر اس مقد مے کی بارے میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں سپریم کورٹ کی دستاویزات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پرائمری اسکول کے ایک سابق ٹیچر لی جشون جس کی عمر 60 سال کے قریب بتائی جاتی ہے، نے اپنے اسکول میں 2011 اور 2012 کے درمیان ان جرائم کا ارتکاب کیا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق اس نے یہ جرم بچوں کی کم عمری اور ان کے کمزور ہونے کی بنا پر اسکول بورڈنگ ہاؤس یا کلاس روم میں کیا۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ حالیہ سالوں میں بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کے کیسوں میں اضافہ ہور ہا ہے اور عدالت نے 2012 سے 2014 تک اس طرح کے 7,145 مقدمات نمٹائے۔

ان کیسوں کے ظاہر ہونے کی ایک بڑی وجہ بڑھتی ہوئی شہری صحافت بتایا جاتا ہے جہاں حکومتی ذرائع ابلاغ سے پہلے اس طرح کی خبروں کو جاری کیا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG