رسائی کے لنکس

پولیس کا الزام تھا کہ اس کمپنی کے ملک میں سربراہ مارک ریلے نے اپنے ملازمین کو حکم دیا کہ وہ غیر قانونی طور پر منافع حاصل کرنے کے لیے اسپتالوں اور ڈاکٹروں کو رشوت دیں تاکہ وہ ان کی مصنوعات استعمال کریں۔

چین کی ایک عدالت نے برطانیہ کی ایک بڑی دوا ساز کمپنی گلیکسو اسمتھ کلین کو 49 کروڑ ڈالر جرمانہ جب کہ چین میں اس کے سابق اعلیٰ عہدیدار اور دیگر کو قید کی سزائیں سنائیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے بتایا کہ جمعہ کو وسطی صوبے ہونان میں چانگشا کی عدالت نے یہ فیصلہ سنایا۔

پولیس کا الزام تھا کہ اس کمپنی کے ملک میں سربراہ مارک ریلے نے اپنے ملازمین کو حکم دیا کہ وہ غیر قانونی طور پر منافع حاصل کرنے کے لیے اسپتالوں اور ڈاکٹروں کو رشوت دیں تاکہ وہ ان کی مصنوعات استعمال کریں۔

عدالت نے ریلے اور دیگر عہدیداروں کو دو سے چار سال تک قید کی سزائیں سنائیں۔

کسی بھی چینی عدالت کی طرف سے عائد کیا جانے والا یہ سب سے بڑا جرمانہ ہے۔

خبررساں ایجنسی "رائٹرز" نے اس مقدمے سے واقفیت رکھنے والے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ ریلے کو چین میں قید نہیں کیا جائے گا بلکہ انھیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس کمپنی نے تین ارب یوان غیر قانونی منافع کمایا جو کہ اتنی ہی رقم کے برابر بنتی ہے جو عدالت کی طرف سے جرمانے کے طور پر عائد کی گئی ہے۔

گلیکسو اسمتھ کلین کمپنی کا کہنا تھا کہ چین میں ان کے ادارے کی طرف سے ہونے والی سرگرمیاں اس کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔

ایک بیان میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اینڈریو وٹی نے کہا کہ "چین میں ہمارے کارروبار کی تحقیقات کا نتیجہ ہمارے لیے بہت اہم ہے لیکن یہ کمپنی کے لیے بہت مایوس کن معاملہ ہے۔ ہم اس سے سبق حاصل کرتے رہیں گے۔"

چین میں 2009ء میں ایک غیر ملکی کمپنی ریو ٹنٹو افیئر کے خلاف بھی مقدمہ چلایا گیا تھا جس میں اس کے عہدیداروں بشمول ایک آسٹریلوی عہدیدار، کو سات سے 14 سال تک قید کی سزائیں دی گئی تھیں۔

XS
SM
MD
LG