رسائی کے لنکس

چین کے وزیر خارجہ ینگ جی چی پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر منگل کو اسلام آباد پہنچے ہیں جہاں اُنھوں نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات میں دو طرفہ سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات پر بات چیت کی۔

ملاقات کے بعد ایوان صدر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر زرداری نے پاکستان اور چین کے درمیان توانائی، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مواصلات اور زراعت سمیت دیگر شعبوں میں طے پانے والے معاہدوں پر عملدرآمد کو تیز کرنے کی ضرور پر زور دیا ہے۔

’’صدر زرداری نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور کسی بھی مشکل کی گھڑی میں تعاون پر چینی حکومت اور قیادت کا شکریہ ادا کیا۔‘‘

صدر زرداری نے توقع ظاہر کی کہ رواں ماہ کے اوائل میں اسلام آباد میں توانائی سے متعلق ہونے والے مشترکہ ورکنگ گروپ کے اجلاس کے نتیجے میں اس شعبے میں دو طرفہ تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔

’’اُنھوں (صدر زرداری) نے کہا کہ عوامی تعلقات کے فروغ کے لیے ریل، زمینی اور فضائی رابطوں میں اضافے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے تجویز دی کہ دونوں ملک اسلام آباد اور کاشغر کے درمیان کمرشل فلائٹ شروع کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔‘‘

صدر آصف علی زرداری (فائل فوٹو)

صدر آصف علی زرداری (فائل فوٹو)


سرکاری بیان کے مطابق پاکستانی صدر نے کہا کہ حال ہی میں ہونے والے پاکستان، افغانستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے سہ فریقی اجلاس نے باہمی تعاون کو مستحکم کرنے کے نئے مواقع مہیا کیے ہیں۔

’’صدر نے کہا کہ شدت پسندی اور انتہا پسندی ایک مشترکہ دشمن ہے جسے مشترکہ کوششوں اور باہمی تعاون سے شکست دینی ہو گی۔‘‘

بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیر خارجہ ینگ جی چی نے پاکستان کے لیے چینی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

’’اُنھوں نے پاکستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے چین کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔‘‘

چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ اُن کے دورے کا مقصد بھی پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت داری کو تقویت بخشنا ہے۔

XS
SM
MD
LG