رسائی کے لنکس

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں کہ وزیرِ خارجہ وانگ یی کی دورے کے دوران میں بھارتی وزیرِاعظم کے ساتھ بھی ملاقات ہوگی یا نہیں۔

چین نے اعلان کیا ہے کہ اس کے وزیرِ خارجہ آئندہ ہفتے بھارت کا دورہ کریں گے جو بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ ہوگا۔

چین کی وزارتِ خارجہ کےترجمان ہونگ لی نے منگل کو بیجنگ میں صحافیوں کوبتایا کہ وزیرِ خارجہ وانگ یی صدر ژی جن پنگ کے نمائندہ خصوصی کی حیثیت سے اتوار کو دو روزہ دورے پر نئی دہلی پہنچیں گے۔

ترجمان کے مطابق دورے کے دوران چینی وزیرِ خارجہ اپنی بھارتی ہم منصب سمیت کئی اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔

تاہم ترجمان کے بقول تاحال یہ واضح نہیں کہ چینی وزیر کی دورے کےد وران میں بھارتی وزیرِاعظم کے ساتھ بھی ملاقات ہوگی یا نہیں۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق دورے کے دوران ہونے والی بات چیت کا ایجنڈا تیار کیا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیرِاعظم مودی نے چین کے صدر ژی جن پنگ کو بھارت کے دورے کی دعوت دی تھی جس کا چین نے اب تک باضابطہ جواب نہیں دیا ہے۔

کسی چینی سربراہِ مملکت نے آخری بار 2012ء میں بھارت کا دورہ کیا تھا جب اس وقت کے صدر ہوجن تاؤ سابق وزیرِاعظم من موہن سنگھ کی دعوت پر نئی دہلی آئے تھے۔

خیال رہے کہ چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعات کے باعث تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس مسئلے پر 1962ء میں جنگ بھی ہوچکی ہے جس میں بھارت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

دنیا کے ان دو گنجان ترین ملکوں کی سرحد 3400 کلومیٹر طویل ہے اور کئی سرحدی علاقوں پر دونوں ملک ہی ملکیت کے دعویدار ہیں۔

تاہم سرحدی تنازعات کے باوجود چین اور بھارت کے درمیان سالانہ اربوں ڈالر کی تجارت ہوتی ہے جس کا توازن چین کے حق میں ہے جسے بھارت برابر کرنا چاہتا ہے۔
XS
SM
MD
LG