رسائی کے لنکس

چین: سابق اعلیٰ عہدیدار کو عمر قید کی سزا


لیو ٹینان

لیو ٹینان

اس بارے میں کوئی شک وشبہ نہیں تھا کہ لیو کو مجرم قرار دیا جائے گا کیونکہ چین میں کمیونسٹ پارٹی کے تحت کام کرنے والی عدالتوں میں مقدمات میں سزا کی شرح 100 فیصد ہے۔

چین کی اقتصادی منصوبہ بندی کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار کو بدعنوانی کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ وہ پہلے اعلیٰ عہدیدار ہے جنہیں چین میں حال ہی میں انسداد بدعنوانی مہم کے تحت سزا سنائی گئی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق لیو ٹینان نے 58 لاکھ ڈالر کی رشوت اس وقت وصول کی جب وہ چین میں اقتصادی منصوبہ بندی کے قومی ترقیاتی ادارے اور اصلاحات کمشن کے نائب سربراہ تھے۔

لیو کے خلاف الزامات پہلی بار دسمبر 2012 میں اس وقت سامنے آئے جب کیجنگ تحقیقاتی اخبار کے صحافی نے اپنے مائکرو بلاگ میں اس سے متعلق خبریں شائع کیں۔

لیو نے پہلے سختی سے ان الزامات کی تردید کی۔ تاہم ستمبر میں اپنے مقدمے (کی سماعت) کے دوارن 60 سالہ لیو نے روتے ہوئے کئی طرح کی رشوت وصول کرنے کا اعتراف کیا جس میں نقد رقم، پورشے گاڑی اور بیجنگ میں ایک قیمتی مکان بھی شامل ہے۔

اس بارے میں کوئی شک وشبہ نہیں تھا کہ لیو کو مجرم قرار دیا جائے گا کیونکہ چین میں کمیونسٹ پارٹی کے تحت کام کرنے والی عدالتوں میں مقدمات میں سزا کی شرح 100 فیصد ہے۔ استغاثہ نے یہ کہتے ہوئے نرمی کی درخواست کی تھی کہ انہوں نے تفتیش کاروں سے تعاون کیا ہے۔

تاہم دارالحکومت کے شمال میں لنگ فنگ کی عدالت کی طرف سے بدھ کو سنائی جانے والی اس جرم میں دی جانے والی یہ زیادہ سے زیادہ سزا ہے۔

لیو نے قومی توانائی انتظامیہ کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کیا اور وہ صدر ژی جنپنگ کی انسداد بدعنوانی کی مہم کےتحت (بدعنوانی) الزامات کا سامنا کرنے والے 50 سے زائد اعلیٰ عہدیداروں میں شامل ہیں جبکہ کئی چھوٹے عہدیداروں کو بھی سزا سنائی جا چکی ہے۔

صدر ژی نے اس مہم کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ بڑے پیمانے پر بدعنوانی چین کی (صرف ایک حکمران )جماعت کی قانونی حیثیت اور جواز کے لیے خطرہ ہے۔

XS
SM
MD
LG