رسائی کے لنکس

چین کی بڑھتی ہوئی خوش حالی غیر ملکی کمپنیوں کے لیے باعث کشش

  • اسٹفنی ہو

چین کی بڑھتی ہوئی خوش حالی غیر ملکی کمپنیوں کے لیے باعث کشش

چین کی بڑھتی ہوئی خوش حالی غیر ملکی کمپنیوں کے لیے باعث کشش

چند عشرے پہلے تک چین کا رخ کرنے والی بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے وہاں کی سستی لیبر بڑی کشش رکھتی تھی، مگر اب وہاں سرمایہ کاری کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کے لیے چین میں دلچسپی کی ایک اور بڑی وجہ وہاں تیزی سے ابھرتی ہوئی متوسط کلاس ہے۔

امریکی کمپیوٹر کمپنی ایپل نے چین میں اپنا پہلا اسٹور 2008 میں کھولا تھا ۔ اس سال توقع ہے کہ چین میں اس کی فروخت اپیل کے مجموعی منافع کا لگ بھگ دس فیصد ہو گی۔

امریکہ دنیا بھر کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے لیکن چین ، جو دنیا بھر کا سب سے گنجان آباد ملک ہے ، فروخت کے اعتبار سے ایک بڑی ممکنہ مارکیٹ ہے ۔

کرسچن مرک چین میں امیریکن چیمبرز آف کامرس کے سر براہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ لوگوں کے ایک ایسے گروپ کی بات کر رہے ہیں جو گاڑیوں ، مہنگے ملبوسات ، کاسمیٹکس یا کسی بھی اور چیز پر خرچ کر سکتا ہے اور جو اس سے بہتر خوراک حاصل کرنا چاہتا ہے جو اس کے پاس موجود ہے۔ یعنی چین میں اشیائے صرف کی کھپت اور معیار زندگی میں مجموعی طور پر اضافہ ہوا ہے ۔

سونگ ہونگ چینی اکیڈیمی آف سوشل سائنسز میں انٹرنیشنل ٹریڈ کے شعبے کے سر براہ ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ چین ابھی تک دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ تو نہیں بنا ہے لیکن وہ اس راستے پر آگے بڑھ رہا ہے ۔

کچھ صنعتوں مثلاً آٹو موبیلز، الیکٹرونکس اور موبائل فونز میں ، چین پہلے ہی دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے ۔ وہ دوسری بہت سی صنعتوں کی کھپت میں بھی دنیا بھر میں سبقت لے گا اور پھر وہ آخر کار دنیا بھر کی سب سے بڑی مارکیٹ بن جائے گا۔

چین میں کاروں کی مانگ گاڑیاں بنانے والی غیر ملکی کمپنیوں کی مدد کررہی ہے جنہیں اپنے ملک میں فروخت کی کمی کا سامنا ہے ۔ فورڈ چائنا کی فروخت کی شرح ایک سال پہلے کے مقابلے میں مئی کے مہینے میں تیزی سے14 فیصد بڑھی ۔

انجیلیکا چونگ ایک چینی رسالے کی چیف ایڈیٹر ہیں ، کہتی ہیں کہ یہاں فیشن انڈسٹری خوب ترقی کر چکی ہے ۔ ان کا کہناہے کہ یہ زبر دست ہے ،ہر روز بلکہ ہر ہفتے نئی نئی مصنوعات متعارف کروائی جا رہی ہیں ۔اہم برانڈزکی مصنوعات کا آنا ، دکانوں کا کھلنا ، مصنوعات کا متعارف ہونا یہ سب کچھ، حتیٰ کہ صرف چھ سال قبل جب ہم نے پہلی بار چین میں اپنا کام شروع کیا تھا تو یہ سرگرمیاں اتنی زیادہ نہیں تھیں۔

چونگ کہتی ہیں کہ غیر ملکی کمپنیاں اب صرف بیجنگ یا شنگھائی ہی میں نہیں کھل رہیں ۔ بلکہ جیسے جیسے دوسرے شہروں میں بھی لوگ زیادہ دولتمند ہو رہے ہیں ، وہ پیسہ خرچ کرنے کے نت نئے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG