رسائی کے لنکس

چین: سائبر ہیکنگ ملکی قوانین کے خلاف ہے


چین: سائبر ہیکنگ ملکی قوانین کے خلاف ہے

چین: سائبر ہیکنگ ملکی قوانین کے خلاف ہے


چین نے کہا ہے کہ سائبر ہیکنگ ملکی قانون کے خلاف ہے اور یہ کہ وہ بین الاقوامی کمپنیوں کے چین میں کام کرنے کا خیرمقدم کرتا ہے۔ یہ بیان اس کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جب انٹرنیٹ کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے یہ کہا کہ وہ چین میں سائبر ہیکنگ اور سنسر شپ کے لازمی تقاضوں کے باعث چین میں اپنی سروسز ختم کرنے پر غور کررہاہے۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان جیانگ یوکو گوگل کے اس اعلان سے متعلق کئی سوالات کا سامنا کرنا پڑا ۔ جمعرات کے روز ایک بریفنگ میں انہوں نے نامہ نگاروں کوبتایا کہ چین میں انٹرنیٹ سب کے لیے کھلا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ چین کے قانون میں ہیکنگ سمیت ہر قسم کے سائبر حملوں کی ممانعت ہے۔ ان کا کہناتھا کہ چین میں انٹرنیٹ قانون کے مطابق کام کرتا ہے اور یہ کہ اس کے انتظامی ضابطے بین الاقوامی معیاروں کے مطابق ہیں۔

انہوں نے گوگل کے حوالے سے اس خصوصی واقعہ پر تبصرے سے انکار کردیا لیکن یہ کہا کہ چین عمومی طورپر انٹرنیٹ اداروں کی جانب سے ملکی قوانین کے مطابق کاروبار کرنے کا خیرمقدم کرتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ترجمان جیانگ نے زور دے کرکہا کہ چین کاقانون واضح طورپر نشان دہی کرتا ہے کہ کس قسم کا مواد اور معلومات انٹرنیٹ پر فراہم کیا جا سکتی ہیں۔

چین میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ اس مواد کو انٹرنیٹ سے خارج کردیں جسے بیجنگ غیر قانونی سمجھتا ہے، مثلاً کالعدم تنظیم فالون گانگ کی جانب سے بنائی گئیں ویب سائٹس وغیرہ۔ چینی حکومت ان ویب سائٹوں کا بھی خاتمہ کر دیتی ہے جو تبت کے جلاوطن روحانی راہنما دلائی لامہ چلاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ خبروں کی کچھ بین الاقوامی سائٹس کو بھی مثلاً وائس آف امریکہ۔

اس ہفتے کے شروع میں گوگل نے یہ غیر متوقع اعلان کیا تھا کہ وہ سائبر حملوں اور سنسر شپ کے لازمی ضابطوں کی بناپر چین میں اپنی سروسز ختم کرنے پر غور کررہاہے کیونکہ وہ اب چین میں اپنے سرچ انجن پر سنسر قبول نہیں کرے گا۔

چینی عہدے دار اور گوگل اس معاملے پر گفت و شنید کررہے ہیں۔
ایک الگ واقعہ میں امریکی سافٹ ویئر کمپنی سائبر سٹر کی نمائندگی کرنے والی ایک لا فرم نے کہا ہے کہ اس ہفتے اس پر سائبر حملے ہوئے ہیں اور یہ حملے چین سے کیے گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG