رسائی کے لنکس

چین میں انسانی حقوق کی صورت میں انحطاط، رپورٹ

  • ولیم آئیڈ

چین میں انسانی حقوق کی صورت میں انحطاط، رپورٹ

چین میں انسانی حقوق کی صورت میں انحطاط، رپورٹ

قانون سازوں اور سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ چین میں انسانی حقوق کے شعبے میں انحطاط صرف آزادی اظہار اور انٹرنیٹ پر روز افزوں پابندیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ عورتوں اور مزدوروں کے حقوق ، اور مذہبی آزادی کی پامالی اور نسلی امتیاز میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

چین میں 2012ء میں قیادت میں تبدیلی کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور اس کے ساتھ ہی معاشرے میں بے چینی اور انٹرنیٹ پر پابندیوں اور بلاگرز، وکیلوں اور سماجی طور پر سرگرم لوگوں کے خلاف کارروائیوں پر تنقید بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ حال ہی میں جاری ہونے والی امریکی کانگریس کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شاندار اقتصادی ترقی اور دنیا میں ممتاز مقام کے باوجود، چین میں انسانی حقوق کے حالات خراب ہو رہے ہیں۔

قانون سازوں اور سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ چین میں انسانی حقوق کے شعبے میں انحطاط صرف آزادی اظہار اور انٹرنیٹ پر روز افزوں پابندیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ عورتوں اور مزدوروں کے حقوق ، اور مذہبی آزادی کی پامالی اور نسلی امتیاز میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ریاست نیو جرسی کے ریپبلیکن کانگریس مین، کرس اسمتھ اور چین کے بارے میں کانگریس کے ایگزیکیوٹو کمیشن کے سربراہ کہتے ہیں کہ اس گروپ کی دسویں سالانہ رپورٹ میں، چین میں انسانی حقوق کی جو موجودہ تصویر پیش کی گئی ہے وہ انتہائی خوفناک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘‘چین کے لیڈر حقوق کے خلاف ورزیوں میں اور زیادہ ہٹ دھرمی سے کام لینے لگے ہیں۔ وہ جن قوانین اور بین الاقوامی معیاروں پر عمل کرنے کی دعویدار ہیں، انہی کو نظر انداز کر رہےہیں اور اس طرح چینی معاشرےپر اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں۔’’

کانگریس مین اسمتھ کہتےہیں کہ چینی لیڈروں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کا جواب دینا بند کر دیا ہے اور وہ اپنے اقدامات کے دفاع کے لیے بین الاقوامی قانون کا سہارا لیتے ہیں۔ اسمتھ نے یہ بیان جمعرات کو غیر ملکی امور کی کمیٹی کی سماعت میں دیا۔ اس کمیٹی کی خاتون چیئر پرسن، فلوریڈا کی ریپبلیکن رکن کانگریس، ایلینا راس لحٹینین نے کہا کہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائیزیشن میں چین کے داخلے کے ایک عشرے بعد، اقتصادی شعبے میں اصلاح نہیں ہوئی ہے۔

سماعت میں بیان دینے والے انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے بہت سے شعبوں میں حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کا ذکر کیا۔ عیسائیوں کے حقوق کے گروپ چینی امداد کے بانی اور سربراہ باب فُو کہتے ہیں کہ مذہب کے بارے میں حکومت کا رویہ اور زیادہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ‘‘2011ء کے پہلے دس مہینوں میں، چین میں مذہبی آزادی کے حالات مسلسل خراب رہے، بلکہ 1982ء کے بعد سے جب ڈینگ ایکسیوپنگ نے مذہب کو مٹانے کی پالیسی سرکاری طور پر ختم کی تھی، آج کل مذہبی آزادی کے حالات سب سے زیادہ خراب ہیں۔’’

اس سال کے شروع میں بیجنگ کے شووانگ چرچ کے درجنوں ارکان کو گرفتار کر لیا گیا جب وہ ایسٹر کی عبادت کی کوشش کر رہے تھے ۔ یہ ظلم صرف عیسائیوں تک محدود نہیں ہے۔ چین میں تبتی بھکشوؤں کے لیے حالات انتہائی مشکل ہو گئے اور 11 بھکشوؤں اور ننوں نے خود کو آگ لگا لی ہے۔ انٹرنیشنل کیمپین فار تبت کے بوچنگ ٹیسرنگ کہتے ہیں کہ ‘‘اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خود سوزی کے یہ سب واقعات تبت کے تمام علاقوں میں چینی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ تبت کے لوگوں کو اظہارِ خیال کی جو تھوڑی بہت آزادی حاصل تھی حالیہ برسوں میں، چینی پالیسیوں کے تحت وہ اور بھی محدود کی جا رہی ہے۔’’

حکومت نے آزادی اظہار کو محدود کرنے کے لیے بھی وسیع تر اور پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت اقدامات کیے ہیں۔ اسے فکر ہے کہ عرب موسمِ بہار جیسی تحریکیں چین میں نہ آ جائیں۔ دی دوئی ہوا فاؤنڈیشن کے سربراہ جان کام کہتے ہیں کہ چینی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ سال 1000 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور ان پر ملکی سلامتی کوخطرے میں ڈالنے کے فرد ِ جرم عائد کی گئی۔ یہ ایسا الزا م ہے جو اکثر سیاسی مخالفین پر لگایا جاتا ہے۔ کام کہتے ہیں کہ یہ تیسرا سال ہے کہ یہ تعداد ایک ہزار سے بھی بڑھ گئی ہے۔ چونکہ تقریر اور اجتماع سے متعلق جرائم میں سزا پانے والوں کو کبھی کوئی معافی نہیں دی جاتی، لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ 1989ء کے بعد، یہ پہلا موقع ہے کہ چین میں سیاسی جرائم کی بنا پر اتنے زیادہ لوگ جیلوں میں ہیں۔

کام کہتے ہیں کہ چینی حکومت کے عہدے داروں کے مطابق، 2010 میں مملکت کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے نصف سے زیادہ مقدمے چین کے دور دراز علاقے، سنکیانگ میں ہوئے جہاں چینی حکومت کے خلاف کشیدگی مسلسل جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘‘مملکت کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے 75 سے 80 فیصد جرائم کا تعلق تقریر کی آزادی اور انجمن سازی کے جرائم سے ہوتا ہے۔ ان مقدموں میں بہت لمبی سزائیں دی جاتی ہیں، اور کسی کو بری نہیں کیا جاتا۔ ’’

گذشتہ سال کے دوران چین میں آن لائن اظہارِ رائے میں زبردست اضافہ ہوا ہے، اور ویبو جیسی ویب سائٹس نے نا انصافیوں کو اجاگر کرنے اور حکومت پر دباؤ ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن رپورٹ کے مطابق، انٹرنیٹ پر پابندیاں سخت کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سال مئی میں، چین نے آن لائن مواد کی نگرانی کو سخت کرنے کے لیے اسٹیٹ انٹرنیٹ انفارمیشن آفس قائم کیا۔ چینی حکام نے حال ہی میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سائٹس پر کنٹرول بڑھانے کے لیے منصوبوں کا اعلان بھی کیا ہے۔

چین کی اکیڈمی آف سائنسز کی رپورٹ کے مطابق، چین میں ویب سائٹس کی مجموعی تعداد میں 41 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کمی کا تعلق تقریر کو کنٹرول کرنے کی کوششوں سے نہیں ہے، بلکہ اس مہم سے ہے جو حکومت نے فحش ویب سائٹس کے خلاف چلائی ہے۔ ایک اور وجہ یہ ہے آج کل اقتصادی حالات خراب ہیں۔

XS
SM
MD
LG