رسائی کے لنکس

وزیرِ اعظم سنگھ نے کہا کہ یہ معاہدہ اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دے گا کہ کئی دہائیوں سے جاری سرحدی تنازع کی وجہ سے بھارت اور چین کے تعلقات تناؤ کا شکار نا ہوں۔

بھارت اور چین نے ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں اپنی متنازع سرحد پر دوطرفہ دفاعی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

اعتماد سازی سے متعلق معاہدے پر دستخط بدھ کو بیجنگ میں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ اور ان کے چینی ہم منصب لی کیچیانگ کے درمیان ملاقات کے بعد کیے گئے۔

وزیرِ اعظم سنگھ نے کہا کہ دفاعی تعاون کا یہ معاہدہ اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دے گا کہ کئی دہائیوں سے جاری سرحدی تنازع کی وجہ سے بھارت اور چین کے تعلقات تناؤ کا شکار نا ہوں۔ اس تنازع میں اپریل میں شدت آ گئی تھی۔

’’وزیرِ اعظم لی اور میں نے اتفاق کیا ہے کہ ہماری سرحدوں پر امن و سلامتی بھارت اور چین کے تعلقات کے فروغ کی بنیاد رہنی چاہیئں۔ جب ہم بھارت اور چین کی سرحد کے معاملے کے منصفانہ، مناسب اور باہمی طور پر قابل قبول حل کے لیے مذاکرات کو آگے بڑھا رہے ہیں، یہ (امن و سلامتی) ہمارا اسٹریٹیجک پیمانہ ہوگا۔‘‘

اپریل میں بھارت نے چینی فوجیوں پر الزام عائد کیا کہ اُنھوں نے اپنا ایک کیمپ اس علاقے میں قائم کیا جو بھارتی حدود کے کم از کم 10 کلومیٹر اندر تھا۔ چین نے اس بات کہ تردید کی کہ اس کے فوجی بھارتی علاقے میں داخل ہوئے۔

چینی وزیرِ اعظم لی نے بھی کہا کہ سرحدی تنازع دوطرفہ تعلقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیئے۔

’’چین اور بھارت کے مابین اختلافات سے بڑھ کر مشترکہ مفادات موجود ہیں۔ چین اور بھارت دو قدیم تہذیبیں ہیں۔ ہمارے عوام میں دانشمندی ہے اور ہماری حکومتیں مشترکہ سرحد سے متعلق اختلافات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، لہذا وہ دوطرفہ تعلقات کے بحیثیت مجموعی مفاد کو متاثر نہیں کریں گی۔‘‘

منموہن سنگھ دورہ چین میں دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو بھی وسعت دینے پر زور دیں گے۔ بھارت چین کی منڈیوں تک رسائی میں اضافے کا خواہش مند ہے کیوں کہ اس وقت تجارتی حجم کے سلسلے میں چین کا پلڑا بھاری ہے۔
XS
SM
MD
LG