رسائی کے لنکس

دونوں ملک متنازع سرحد پر ایک بڑے علاقے پر ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں اس معاملے پر 1962 میں دونوں کے درمیان جنگ بھی ہو چکی ہے۔

بھارت نے منگل کو کہا کہ وہ چین کے ساتھ اپنی 2200 میل طویل سرحد کا دفاع کرے گا۔ چین کی صدر ژی جنپنگ کے دورہ بھارت سے قبل بھارتی میڈیا کے مطابق یہ سرحد پر کشیدگی کا نیا سلسلہ ہے۔

بھارت کے اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کے مطابق گزشتہ ہفتے چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے 200 سے زائد فوجی ہمالیہ کے پہاڑی سلسلہ کے مغرب میں لداخ کے علاقے میں داخل ہوئے اور کرینوں، بلڈوزوں کی مدد سے ایک اعشاریہ دو میل لمبی سڑک اس علاقے میں بنائی۔

اخبار کے مطابق بھارتی فوجیوں نے چینی اہلکاروں کو چیلنج کیا اور اُنھیں پیچھے ہٹنے کا کہا، بعد میں 10 ستمبر کی رات چینی فورسز کی طرف سے بنائی گئی عارضی سڑک کو بھی تباہ کر دیا۔

بھارت کی وزارت دفاع کی طرف سے اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

چین اور بھارت دونوں ہی صدر ژی جنپنگ اور وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان طے ملاقات کو مثبت رُخ قرار دے رہے ہیں۔

صدر ژی جنپنگ مالدیپ اور سری لنکا کے دورے کے بعد بدھ کو بھارت پہنچیں گے۔

اس دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون خاص طور پر بھارت میں چین کی سرمایہ کاری متوقع ہے، لیکن مشترکہ سرحد سے متعلق معاملہ دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی تعلقات میں رخنا ہے۔

دونوں ملک متنازع سرحد پر ایک بڑے علاقے پر ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں اس معاملے پر 1962 میں دونوں کے درمیان جنگ بھی ہو چکی ہے۔

بھارت اور چین اس علاقے میں حقیقی سرحد پر متفق نہیں ہو سکے ہیں اور وہاں دونوں ملکوں کی فوجیں تعینات ہیں جن کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی ملتی رہتی ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے کہا کہ ’’ہمیں یقین ہے کہ ہماری سرحدیں محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ نریندر مودی اور صدی ژی سرحدی تنازع کے معاملے پر بھی بات کریں گے۔

گزشتہ دو سالوں میں سرحد پر خلاف ورزیوں کے واقعات میں اضافے کی اطلاعات ملی ہیں جن سے بظاہر سرحد پر چین کی غلبے کا اشارہ ملتا ہے لیکن حکومت اس طرح کے واقعات اجاگر نہیں کرتی۔

بھارت میں حکومت نے گزشتہ ماہ پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ اگست میں چین کی طرف سے سرحد کی خلاف ورزی کے 334 واقعات رپورٹ ہوئے۔

چین بھارتی حدود میں مداخلت کا انکار کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG