رسائی کے لنکس

چین اور بھارت نے کوپن ہیگن معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی


چین اور بھارت نے کوپن ہیگن معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی

چین اور بھارت نے کوپن ہیگن معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی

اس بارے میں مہینوں تک بے یقینی کی صورتِ حال کے بعد کہ آیا چین اور بھارت آب وہوا میں تبدیلیوں کے بارے میں کوپن ہیگن معاہدے کی تائید کریں گے، ان دونوں اُبھرتی ہوئى اقتصادی طاقتوں نے بالآخر معاہدے کے لیے اپنی حمایت کا باضابطہ اعلان کردیا ہے۔

چین اور بھارت ، دسمبر میں اُس معاہدے کو تشکیل دینے والے اصل گروپ کے وہ دو آخری ملک تھے، جنہوں نے ابھی تک معاہدے کی تائید نہیں کی تھی۔ اُس گروپ کے دوسرے ارکان میں برازیل، جنوبی امریکہ، یورپی یونین اور امریکہ شامل ہیں۔

آب و ہوا میں تبدیلیوں سے متعلق معاہدے کے لیے مذاکرات میں چین کے نمائیندے سُو وئى نے منگل کے روز ایک سرکاری مراسلے میں کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ اب چین کو اُن ملکوں کی فہرست میں شامل کرسکتی ہے ، جو اس معاہدے کی حمایت کرتے ہیں۔

بھارت میں ماحول کے معاملات کے وزیر جے رام رامیش نے منگل کے روز پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ معاہدے کے لیے نئى دہلی کی تائید سے آب و ہوا میں تبدیلیوں کے مسائل پر ہونے والے مذاکرات میں بھارت کے عمل دخل کو تقویت ملے گی۔

اب دنیا میں سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسیں خارج کرنے والے تمام ملک ،فضا میں ان گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لیے پابندیِ تعمیل سے آزاد کوپن ہیگن معاہدے میں شامل ہوگئے ہیں۔ معاہدے میں دولت مند ملکوں سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ آب و ہوا میں تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیےغریب ملکوں کو مالی امداد فراہم کریں گے۔

XS
SM
MD
LG