رسائی کے لنکس

چین اور بھارت کے درمیان تنازعہ شدید

  • عمیر ریاض

چینی فوج

چینی فوج

ایشیاء کی دو بڑی فوجی و معاشی طاقتوں چین اور بھارت کے تعلقات میں حالیہ دنوں میں آنے والی کشیدگی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور تازہ پیش رفت میں بھارتی حکومت کی جانب خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرونفوذ پہ کھل کے خدشات کا اظہار کیا گیاہے۔

بھارتی وزیرِ خارجہ ایس ایم کرشنا نے منگل کے روز پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ خطے میں ہونے والے واقعات اور سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے ہندوستانی حکومت اس نتیجہ پہ پہنچی ہے کہ چین بحیرہ عرب کے ساتھ واقع ممالک میں "معمول سے بڑھ کر دلچسپی لے رہا ہے" جس پہ بھارت کو تشویش ہے۔

کرشنا کا کہنا تھا کہ ان کا ملک چینی عزائم اور خطے میں آنے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی کی ابتداء گزشتہ ہفتے اس وقت ہوئی تھی جب ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں فوجی آپریشنز کے نگران ایک جنرل کو چین کی جانب سے ویزہ دینے سے انکار کردیا گیا تھا۔ بھارتی لیفٹننٹ جنرل بی ایس جسوال دونوں ملکوں کے دفاعی حکام کے درمیان ہونے والے اعلٰی سطحی مذاکرات میں شرکت کے لیے چین جانے والے تھے تاہم میزبان ملک کی جانب سے انہیں یہ کہہ کر ویزہ دینے سے انکار کردیا گیا کہ وہ چونکہ ایک متنازعہ علاقے میں فوجی آپریشنز کے نگران ہیں لہذا چین کی جانب سے انہیں اپنی سرزمین پہ خوش آمدید نہیں کہا جائے گا۔ بھارتی حکومت نے واقعہ پر سخت احتجاج کرتے ہوئے چین کے ساتھ دفاعی وفود کے تبادلوں کا عمل معطل کردیا تھا ۔

کشمیر کا علاقہ انتظامی طور پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہے تاہم دونوں ممالک اس کے کلی حیثیت میں اپنے ساتھ الحاق کے خواہشمند ہیں۔ جبکہ چین بھی متنازعہ خطے کے ایک حصہ پہ اپنا دعویٰ کرتا ہے۔

بھارتی وزیرِ خارجہ کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دو چینی جنگی بحری جہاز خیر سگالی کے دورے پر دو روز قبل برما کے دارالحکومت رنگون پہنچے ہیں۔ واضح رہے کہ چینی بحریہ کی جانب سے برما کا یہ ساٹھ سالوں میں پہلا دورہ ہے۔ ہندوستان خطے میں اپنے اتحادی ملک سری لنکا اور دیگر چھوٹے ممالک بشمول نیپال اور بھوٹان میں بھی چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا آیا ہے۔

خطے کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تنائو سے جہاں ایک طرف چھوٹے ممالک میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہورہا ہے وہیں تجزیہ نگاروں کے خیال میں اس سے علاقے کی سیاست پہ گہرے دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

معروف پاکستانی دفاعی تجزیہ نگار اور کولمبیا یونیورسٹی میں سابق وزیٹنگ پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کا کہنا ہے کہ بھارت کی شروع ہی سے یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ خطے میں اپنی بالادستی قائم رکھنا چاہتا ہے اور کسی بھی عالمی طاقت کی جانب سے اس کے پڑوسی ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششو ں کو بھارت ہمیشہ تشویش کی نگاہ سے دیکھتا آیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں پروفیسر رضوی کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں حالیہ خرابی کی ا یک بڑی وجہ چین کی جانب سے بھارتی جنرل کو ویزہ دینے سے انکار ہے جسے چین کی جارحانہ سفارت کاری قرار دیا جاسکتا ہے۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کا تنائو وقتی ہے اور اس سے خطے میں کوئی بڑی خرابی پیدا نہیں ہوگی جبکہ اس تنازعے کے سبب دونوں ممالک کی سلامتی پالیسی میں بھی کوئی بڑی تبدیلی آنے کا امکان نہیں۔

جبکہ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ پروفیسرڈاکٹرمطاہر احمد کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والا تنازعہ مستقبل میں بھی برقرار رہنے کا امکان ہے جس کے خطے پہ خاطر خواہ اثرات پرتب ہونگے۔

وائس آف امریکہ سے بات چیت میں جنوبی ایشیا کی صورتحال پہ نظر رکھنے والے ڈاکٹرمطاہرکا کہنا تھا کہ دونوں طاقتوں کی خارجہ پالیسی خطے میں اپنے اپنے اثرو رسوخ میں اضافہ اور بالادستی کے حصول کی خواہشات پہ مبنی ہے اور اس حوالے سے دونوں ممالک کے مفادات باہم ٹکراتے ہیں جس کے باعث اس طرح کے تنازعات کا پیش آنا فطری عمل ہے۔

تاہم ڈاکٹر مطاہر کا خیال ہے کہ چین اور بھارت دونوں ہی اپنے تنازعات کو سفارت کاری تک ہی محدود رکھیں گے اور ان کے درمیان کسی مسلح تصادم یا کسی اور انتہائی قدم کا امکان خارج از امکان ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تنازعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین اور بھارت کے باہمی تعلقات میں اعتماد سازی کے اقدامات کی بدولت ماضی کے مقابلے میں بہتری آئی ہے ۔ دونوں ممالک کی باہمی تجارت کے حجم میں بھی گزشتہ دس سالوں میں تیس گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تاہم ساتھ ہی ساتھ دونوں ایشیائی طاقتوں کے درمیان وقفے وقفے سے تنازعات بھی سر اٹھاتے رہتے ہیں۔

جہاں ایک طرف بھارت خود کو ایک ایشیائی اور عالمی قوت کی حیثیت سے تسلیم کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے، وہیں چین خطے میں اپنے اثر ورسوخ میں اضافہ کررہا ہے۔ چین کی جانب سے حال ہی میں پاکستان میں گوادر اور سری لنکا میں ہمبنتوٹا کی بندرگاہوں کی تعمیر اوربرما میں توانائی اور کان کنی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پہ سرمایہ کاری کی گئی ہے۔تجزیہ نگاروں کے مطابق چین کی اس حکمتِ عملی کا مقصد خودکو نئی بحری گزرگاہوں کی فراہمی اور ان کا تحفظ ہے کیونکہ چین اپنی تیل کی ضروریات کا 80 فیصد بحری راستوں سے درآمد کرتا ہے۔

دوسری جانب بھارت بھی بحیرہ عرب میں اپنی بالادستی کے لیے کوشاں ہے جو اپنی تیل کی طلب کا 65 فیصد تک بحری راستوں سے درآمد کرکے پورا کر رہاہے اور بحیرہ عرب میں چین کی موجودگی کو اپنے مفادات کے لیے خطرہ گردانتا ہے۔

ڈاکٹر مطاہر کے مطابق چین ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہےجو اندازوں کے مطابق 2020 میں امریکہ سے دنیا کی سب سے بڑی اکانومی کا اعزاز چھین لے گا۔ ان کے خیال میں آزادی کے بعد سے چین ایک پالیسی کے طور پر خود کو عالمی تنازعات میں الجھنے سے ہر ممکن حد تک بچاتا رہا ہے تاکہ اپنی تمام تر توجہ اور صلاحیتیں اپنی اقتصادیات پر صرف کرسکے۔

"یہی وجہ ہے کہ چین میں یہ احساس موجود ہے کہ اس کی اقتصادی ترقی سلامتی سے جڑی ہے اور چین حتی الامکان حد تک جنگ سے گریز چاہتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ چین اپنی سرحدوں اور حدبندیوں کے حوالے سے بھی کبھی لچک نہیں دکھاتا اور 1962 کی چائنا-بھارت جنگ اس کی دلیل ہے۔ لہذا میری رائے میں یہ تنازعہ جلد حل ہونے کا امکان نہیں "۔

اس سوال پر کہ خطے کی ان دو طاقتوں کے درمیان تنازعے کے پاکستان پہ کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، پروفیسر حسن عسکری کا کہنا تھا چین کی جانب سے کشمیر میں تعینات ایک جنرل کو ویزہ دینے سے انکار کا معاملہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی موقف کی تائید کرتا ہے جسے پاکستان کو عالمی برادری کے سامنے اٹھانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی کشمیر پالیسی بڑی حد تک پاکستانی پالیسی کی تائید کرتی ہے اور دونوں ممالک بھارتی موقف کے برعکس اسے ایک متنازعہ خطہ تسلیم کرتے ہیں۔

جبکہ ڈاکٹر مطاہر کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی داخلی سلامتی کی ابتر صورتحال، بین الاقوامی سطح پہ مجروح ساکھ، پے در پے بحرانوں اور اداروں کی عدم فعالیت کے باعث خطے میں کوئی قابلِ ذکر کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہا۔

XS
SM
MD
LG