رسائی کے لنکس

بھارتی پولیس نے جمعرات کے روز نئی دہلی میں چین کے وزیر خارجہ یانگ جی چی اور اپنے بھارتی ہم منصب کے درمیان مذاکرات کے موقع پر عمارت کے باہر مظاہرہ کرنے والے جلاوطن تبتی باشندوں کے گروپ کو وہاں سے پیچھے دھکیل دیا۔

مظاہرین یہ مطالبہ کررہے تھے کہ چین ہمالیہ سلسلے کے متنازع علاقے سے نکل جائے اور ان کے اس دعوے کی حمایت میں بھارت نے مذکورہ علاقے میں گذشتہ پانچ عشروں سے اپنی فوجی موجودگی قائم رکھی ہوئی ہے۔

20 سے زیادہ بودھ بھگشو اور رہبائیں حالیہ مہینوں میں چین کے سخت گیر اقتدار اور دلائی لامہ کی وطن واپسی کی اجازت دینے کے مطالبے پر خود سوزی کرچکی ہیں۔

تبتیوں کے روحانی پیشوا 1959ء میں چینی اقتدار کے خلاف ناکام بغاوت کے بعد فرار ہوکر بھارتی قصبے دھرم شالا میں قیام پذیر ہیں ۔

بھارت میں ان کی موجودگی بیجنگ کے لیے پریشان کن ہے اور اس کے علاوہ چین کے شمال مشرقی علاقے ارونچل پردیش پر بھی بھارت کے ساتھ اختلافات ہیں جس پر چین ملکیت کا دعویدار ہے۔

چین حالیہ عرصے میں مذکورہ علاقے میں بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی کے دورے پر اپنی برہمی کا اظہار کرچکاہے۔

چین کے وزیر خارجہ یانگ جی چی بھارت کے خارجہ امور کے وزیر ایس ایم کرشنا کے ساتھ مذاکرات کے لیے ان دنوں دہلی میں ہیں۔ دونوں ملکوں کے وفود اس ماہ کے آخر میں نئی دہلی میں منعقد ہونے والی بی آر آئی سی ایس سربراہ کانفرنس پر مذاکرات کریں گے، جس کے ذریعے نئی ابھرتی ہوئی معیشتں برازیل، روس، بھارت ، چین اور جنوبی افریقہ مل کر آگے بڑھ سکتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG