رسائی کے لنکس

چین میں انٹرنیٹ پر مزید سخت پابندیاں


چین میں انٹرنیٹ پر مزید سخت پابندیاں

چین میں انٹرنیٹ پر مزید سخت پابندیاں

چین نے ملک میں انٹرنیٹ کے استعمال پر نگرانی میں اضافہ کرتے ہوئے پیشہ ور افراد کے سب سے بڑے نیٹ ورک LinkedIn اورچین میں امریکی سفیر کے نام پر کی جانے والی ریسرچز کو عارضی طورپر بلاک کردیا ہے۔

جمعے کے روز نیٹ ورکنگ سائٹ اس کے کچھ ہی دیر بعد بند ہوگئی جب ایک شخص نے ایک فورم کے ذریعے چین میں یاسمین طرز کے انقلاب پر گفتگو شروع کی۔

یاسمین بڑے پیمانے کے ان عوامی مظاہروں کی ایک اصطلاح بن چکاہے جس کا سامنا تیونس، مصر ، لیبیا اور مشرق وسطیٰ کے کئی اور ملکوں کو کرنا پڑا ہے۔

چینی حکام نے گذشتہ ہفتے انٹرنیٹ پر’ یاسمین انقلاب‘ کے لیے باہر نکلنے کی اپیلوں کے بعد مظاہروں سے پہلے ہی ہزاروں سیکیورٹی اہل کاروں کو تعینات کردیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہناہے کہ مظاہروں سے قبل انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی کم ازکم 80 نمایاں شخصیات کو یاتو حراست میں لے لیا گیا یا انہیں اپنے گھروں پر نظربند کردیا گیا ۔چین کے ایک درجن سے زیادہ شہروں میں کئی سو افراد نے مظاہروں میں شرکت کی۔

پچھلے اتوار بیجنگ میں ہونے والے مظاہروں میں سے ایک میں امریکی سفیر جون ہٹس مین کو بھی دیکھا گیا تھا۔ امریکی سفارت خانے کا کہناہے کہ وہ محض ایک اتفاق تھا کیونکہ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ شاپنگ کے اس مرکز میں گئے تھے۔

جمعے کے روز چین کی معروف انٹرنیٹ سائٹ Sina Weibo پر امریکی سفیر کے نام سے ریسرچ کرنے والوں کوانٹرنیٹ پر یہ پیغام مل رہاتھا کہ قانون، قواعد و ضوابط اور پالیسیوں کی وجہ سے ان تک رسائی ممکن نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG