رسائی کے لنکس

چین پر یوٹرن کاایرانی الزام مسترد


صدر احمدی نژاد

صدر احمدی نژاد

چین کا کہنا ہے کہ ایران پر نئی پابندیوں کی حمایت کرنے کے باوجود اس کے خیالات تبدیل نہیں ہوئے۔ چینی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل میں تہران کے جوہری پروگرام کے خلاف سزا کے حق میں بیجنگ کے ووٹ دینے کا مطلب گفت و شنید کے دروازے بند کرنا نہیں ہے۔

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد چین جارہے ہیں جہاں وہ شنگھائی میں ہونے والی ورلڈ ایکسپو میں ایرانی اسٹال کا دورہ کریں گے۔ ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت پر ہورہاہے جب تہران اور بیجنگ میں فاصلے بڑھ رہے ہیں۔

چین نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں ایران کے جوہری پروگرام کی بنا پر تہران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ جس کے فوری بعد ایرانی عہدےداروں کی جانب سے چین پر سخت تنقید سامنے آئی ۔

صدر احمدی نژاد کے دورے سے قبل چینی وزارت خارجہ کے ترجمان شین گانگ نے جمعرات کے روز ایرانی برہمی کم کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے ان تبصروں کو رد کردیا کہ پابندیوں کے معاملے میں چین نے یوٹرن لیا ہے۔

مسٹر شین گانگ نے اس بات سے انکار کیا کہ اس مسئلے پرچین نے اپنے خیالات تبدیل کرلیے ہیں اور یہ کہا کہ چین یہ سمجھتا ہے کہ یہ کارروائی ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لے آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ چین جوہری پھیلاؤ روکنے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کو ہمیشہ سے اہمیت دیتا آیا ہے۔اور یہ کہ پابندیوں کے حق میں چین کا ووٹ صرف چین کے نکتہ نظر کو ہی ظاہر نہیں کرتا بلکہ عالمی برادری کے خدشات کو بھی سامنے لاتا ہے۔

اور اسی لیے چین نے اس ملک کو سزا دینے کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا ہے جو اسے تیل فراہم کرنے والا ایک بڑا ملک ہے۔

تاہم چین نے ایران کی فوج اور جوہری سرمایہ کاری سے متعلق پابندیوں کے نفاذ کےلیےساتھ دینے کا اقدام عالمی برداری بشمول امریکہ اور اسرائیل کے شدید دباؤ کے تحت اٹھایا ہے۔

امریکہ اورکئی دوسرے ملکوں کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کررہاہے ، لیکن تہران کا کہنا ہے کہ اس کا پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

مسٹر شین نے کہا کہ صدر احمدی نژاد ، چین میں اپنے دو روزہ قیام کے دوران سینیئر چینی عہدے داروں سے ملاقات نہیں کریں گے۔

XS
SM
MD
LG