رسائی کے لنکس

متنازع بحیرہ جنوبی چین کے جزیرے پر چینی فوجی طیارے کی لینڈنگ


فائل فوٹو
فائل فوٹو

چین کے سرکاری میڈیا نے کہا کہ یہ جہاز اتوار کو سمندر کے اوپر گشت کررہا تھا جب اسے ایک ہنگامی پیغام موصول ہوا کہ وہ تین زخمی تعمیراتی کارکنوں کو نکالنے کے لیے فیری کراس چٹان پر اترے۔

چین کا کہنا ہے کہ اس کا ایک فوجی جہاز متنازع بحیرہ جنوبی چین میں واقع مصنوعی جزیروں پر اترا ہے۔ چین کی طرف سے پہلی بار اس طرح کے کسی مشن کا سرکاری سطح پر اعتراف کیا گیا ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا نے پیر کو کہا کہ یہ جہاز اتوار کو سمندر کے اوپر گشت کررہا تھا جب اسے ایک ہنگامی پیغام موصول ہوا کہ وہ تین زخمی تعمیراتی کارکنوں کو نکالنے کے لیے فیری کراس چٹان پر اترے۔

یہ طیارہ زخمی کارکنوں کو اٹھانے کے بعد ہینان کے جزیرے کی طرف پرواز کر گیا جہاں ایک ایمبولینس موجود تھی۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کینگ نے کہا کہ ایسے امدادی مشن فوج کی روایت ہیں۔ "چین کے علاقے پر یہ کوئی غیر معمولی چیز نہیں ہے"۔

چین نے اسپراٹلی کے متنازع جزیروں پر گزشتہ سال ایک تین کلومیٹر طویل فضائی پٹی تعمیر کی تھی اور رواں سال جنوری سے یہا ں آزمائشی کمرشل پروازیں شروع کی گئیں۔

امریکہ کے وزیر دفاع ایش کارٹر نے رواں ماہ ہی کہا تھا کہ بحیرہ جنوبی چین میں چین کے اقدامات پر امریکہ کو سخت تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیگر ایشیائی ممالک بھی سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر امریکہ کو چین کے فوجی اقدامات پر اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے رہے ہیں جو ان کے بقول "اپنے حجم اور وسعت میں نمایا ں ہیں"۔

امریکی عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ چین کی طرف سے مصنوعی جزیروں سے فوجی طیارے اڑانے کی کوشش اس علاقے میں امریکی پروازوں کو نہیں روک سکے گی۔

چین بحیرہ جنوبی چین پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ فلپائن، تائیوان، ویت نام اور کئی دیگر ممالک بھی ایسا ہی دعویٰ کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG