رسائی کے لنکس

امدادی کارکنوں نے ملبے تلے سے بچوں کو نکالنے کے لیے اٹھارہ گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد جمعہ کو اُن سب کی موت کی تصدیق کی۔

چین میں حکام نے ملک کے جنوب مغربی حصے میں ایک اسکول کی عمارت پر چٹان ٹوٹ کر گرنے کے حادثے سے 18 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

دور دراز چینی گاؤں ژینے میں یہ واقعہ جمعرات کو پیش آیا تھا اور تودے تلے تین فارم ہاؤس بھی دب گئے تھے۔ امدادی کارکنوں نے ملبے تلے سے بچوں کو نکالنے کے لیے اٹھارہ گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد جمعہ کو اُن سب کی موت کی تصدیق کی۔

حکام نے بتایا ہے کہ ایک شخص ابھی لاپتا ہے جب کہ ایک زخمی عارضی اسپتال میں زیرعلاج ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تودہ گرنے سے دریا کا بہاؤ رُک گیا اور پانی متاثرہ عمارتوں کے گرد جمع ہونا شروع ہوگیا جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور گاؤں کے لگ بھگ 800 افراد کو بھی وہاں سے منتقل کرنا پڑا۔

متاثرہ علاقے میں امدادی کاموں میں 2000 افراد نے حصہ لیا جن میں مقامی باشندے، پولیس، طبی عملے اور فوج کے جوان شامل تھے۔

چین میں ان دنوں ایک ہفتے کی قومی تعطیلات ہیں اور عمومی طور پر اس موقع پر اسکول میں طالب علم موجود نہیں ہوتے۔ لیکن عہدے داروں کا کہنا ہے کہ تودے تلے زندہ دفن ہونے والے بچے اپنے اُن اسباق کی تیاری کے لیے کلاسوں میں حاضر تھے جو گزشتہ ماہ علاقے میں آنے والے زلزلے کے باعث منسوخ کردیے گئے تھے۔

اس زلزلے میں کم ازکم 81 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

چین کا جنوب مغربی یونان صوبہ ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں اکثر زلزلے آتے ہیں۔ گزشتہ ماہ پانچ اعشاریہ چھ شدت کے زلزلے میں کئی دیہات تباہ جبکہ دو لاکھ لوگ بے دخل ہوگئے تھے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG