رسائی کے لنکس

چین میں لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ

  • ب

چین میں مٹی کے تودوں تلے دبنے والے افراد کو زندہ نکالنے کی اُمیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔ گزشتہ اتوار کو گنسو صوبے میں لینڈ سلائیڈنگ میں کم سے کم 700 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد لاپتہ ہو گئے تھے۔

اس وقت علاقے میں دس ہزار سے زائد فوجی اور امدادی کارکن لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ملبہ ہٹانے اور کھدائی کے کام میں مصروف ہیں جنہوں نے اب تک 45 ہزار سے زائد افراد کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ اس آفت سے متاثرہونے والو ں کی اکثریت تبت کے علاقے کے چرواہوں اور کسانوں کی ہے۔

ماہرین نے آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے جس سے امدادی کارکنوں کی مشکلات میں اضافے کا امکان ہے۔ مٹی کے تودوں کے سرکنے سے بننے والے ڈیم میں جمع پانی کی سطح کو کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

امدادی کارکنوں نے اسی علاقے میں ہی عارضی مردہ خانہ بنا رکھاہے اور گرم حبس کے موسم سے فضا میں تعفن پھیلاہوا ہے۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ موسلا دھار بارشوں، 2008 ء میں علاقے میں آنے والے زلزلے ، طویل خشک سالی اور دوسری ایسی وجوہات حالیہ لینڈ سلائیڈنگ کا باعث بنی ہیں۔ اس کے علاوہ کئی سالوں سے جاری درختوں کی مسلسل کٹائی سے ارگرد کی پہاڑیاں بالکل ننگی ہو چکی ہیں۔

چین میں مٹی کے تودوں کے سرکنے سے ہونے والی ہلاکتیں ملک میں حالیہ سیلابوں میں کسی ایک واقعے میں ہونے والا سب سے بڑا جانی نقصان ہے۔ اس سال سیلابوں میں ب تک 1500فراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اربوں ڈالرز مالی نقصانات بھی ہو ئے ہیں ۔ مجموعی طور پر اس آفت سے 28 صوبے اور علاقے متاثر ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG