رسائی کے لنکس

خلائی جہاز اپنے ساتھ 6 ٹن سامان، 2 ٹن ایندھن لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور تین مہینوں تک کسی خلاباز کے بغیر اپنی پرواز جاری رکھ سکتا ہے۔

چین نے اپنا پہلا سامان بردار خلائی جہاز جمعرات کے روز اپنے سفر پر روانہ کر دیا۔

چین سن 2022 تک اپنا خلائی اسٹیشن قائم کرنا چاہتا ہے جہاں خلاباز مستقل طور پر رہا کریں گے۔

صدر زی جن پنگ کی ترجیحات میں خلائی پروگرام کے ذریعے قومی سلامتی کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

چین کا خلائی جہاز تیانزوون جنوبی صوبے ہائنان کے سیٹلائٹ لانچنگ مرکز وین چانگ سے روانہ ہوا۔

چین کے سرکاری ٹیلی وژن پر روانگی کا منظر براہ رأست دکھایا گیا۔

خلائی جہاز کو اس انداز سے بنایا گیا ہے کہ وہ تیانگ ونگ ٹو خلائی لیبارٹری سے یا’ فلکی محل ٹو ‘کے ساتھ جڑ سکے جہاں پچھلے اکتوبر میں دو خلابازوں نے ایک مہینہ گذارا تھا جو چین کا اب تک کا سب سے طویل دورانیے کا خلائی مشن تھا۔

چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ سامان بردار خلائی جہاز چین کے خلائی اسٹیشن کی تعمیر کے لیےتکنیکی نوعیت کی اہم بنیاد فراہم کرے گا۔

خلائی جہاز اپنے ساتھ 6 ٹن سامان، 2 ٹن ایندھن لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور تین مہینوں تک کسی خلاباز کے بغیر اپنی پرواز جاری رکھ سکتا ہے۔

فوجی، تجارتي اور سائنسی مقاصد کے لیے اپنے خلائی پروگرام میں تیزی سے پیش رفت کے باوجود چین فی الحال امریکہ اور روس سے کہیں پیچھے ہے۔

سن 2013 کے آخر میں چین نے اپنی پہلی خلائی گاڑی چاند کی سطح پر اتاری تھی، لیکن اسے چلانے میں شديد تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

چین کا کہنا ہے کہ اس کی خلائی سرگرمیاں اور عزائم پرامن مقاصد کے لیے ہیں ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG