رسائی کے لنکس

توقع کی جا رہی ہے کہ خلائی گاڑی دسمبر کے وسط میں چاند پر اُترے گی جہاں اس میں نصب آلات کی مدد سے سطح کا جائزہ لینے کے علاوہ قدرتی وسائل کی تلاش بھی کی جائے گی۔

چین نے چاند کی سطح کے تجزیے کے لیے اپنا پہلا روبوٹک مشن روانہ کر دیا ہے اور خلائی تحقیق کے میدان میں یہ تازہ اقدام عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اس کی قدر کو ظاہر کرتا ہے۔

چینگ تھری (Chang’e-3) نامی خلائی گاڑی، جس میں ’جیڈ ریئبٹ‘ نامی چھوٹی گاڑی بھی موجود ہے، پیر کو علی الصبح راکٹ کے ذریعے اپنے سفر پر روانہ ہوئی۔ یہ راکٹ چین کے جنوب مغرنی صوبی سیچوان میں قائم ژیچینگ سیٹلائیٹ لانچ سینٹر سے خلا میں بھیجا گیا۔

راکٹ کے فضا میں بلند ہونے کے مناظر سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیے گئے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ خلائی گاڑی دسمبر کے وسط میں چاند پر اُترے گی جہاں اس میں نصب آلات کی مدد سے سطح کا جائزہ لینے کے علاوہ قدرتی وسائل کی تلاش بھی کی جائے گی۔

عالمی سطح پر چاند پر بھیجا گیا اس نوعیت کا یہ تیسرا مشن ہے۔ امریکہ اور سابق سوویت یونین کئی دہائیوں قبل ایسا کر چکے ہیں۔

چاند کی سطح پر خلائی گاڑیوں کی ’’ہارڈ‘‘ لینڈنگز نسبتاً آسان عمل ہے، اور چین نے 2009ء میں ایک خلائی گاڑی کو چاند کی سطح سے ٹکرایا تھا۔

چاند کی سطح پر آخری مرتبہ ’’سافٹ‘‘ لینڈنگ 1976ء میں سوویت یونین کی خلائی گاڑی نے کی تھی۔
XS
SM
MD
LG