رسائی کے لنکس

چین کا سیٹلائٹ مدار میں داخل؛ ’’ہیکنگ سے پاک ہوگا‘‘، دعویٰ


کوانٹم سیٹلائٹ

کوانٹم سیٹلائٹ

سیٹلائٹ کا وزن 600 سے زائد کلوگرام ہے، جسے ’مشیئس‘ کا نام دیا گیا ہے، جو پانچویں صدی عیسوی میں جنم لینے والے چینی فلسفی اور سائنس دان تھے۔ یہ سیٹلائٹ ہر 90 منٹ بعد زمین کے گرد چکر مکمل کرے گا

چین نے دنیا کا پہلا سیٹلائٹ مدار میں روانہ کیا ہے، جس میں ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جس سے مواصلات کو زمین کی جانب بھیجا جا سکے گا، جس کے لیے اُسے توقع ہے کہ ’’یہ ہیکنگ سے محفوظ ہے‘‘۔

سیٹلائٹ کو منگل کے روز گنسو کے صوبے میں واقع شمال مغربی سحرائے گوبی کے ایک فوجی اڈے سے خلا میں روانہ کیا گیا۔

سیٹلائٹ کا وزن 600 سے زائد کلوگرام ہے، جسے ’مشیئس‘ کا نام دیا گیا ہے، جو پانچویں صدی عیسوی میں جنم لینے والے چینی فلسفی اور سائنس دان تھے۔ یہ سیٹلائٹ ہر 90 منٹ بعد زمین کے گرد چکر مکمل کرے گا۔

مشیئس کی جانب ہلکے ذرات فائر کیے جائیں گے، یہ طے کرنے کے لیے آیا (کوانٹم فزکس) برقی طبیعیات طویل فاصلے کی مواصلات پر ’انکرپشن‘ کو محفوظ رکھ سکے گی۔

سرکاری ’شنہوا‘ خبر رساں ادارے نے کہا ہے کہ سیٹلائٹ کے دو سالہ مشن کے دوران ’ہیکنگ سے پاک‘ مواصلات کا ثبوت مل سکے گا کہ خلا سے زمین تک ’توڑی نہ جا سکنے والی چابیوں‘ کی جزیات کی شبیہ کی ترسیل کس طرح سے ہوتی ہے۔

مورس جونز کا تعلق غیروابستہ آسٹریلیائی خلائی تحقیق سے ہے، جو چین کے خلائی پروگرام کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔ اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کے وکٹر بیٹے کو بتایا کہ ’’میں نہیں سمجھتا کہ ’کوانٹم کمیونی کیشن سسٹم‘ اتنا ناقابل توڑ نہیں جتنا چینی ہمیں جتلا رہے ہیں‘‘۔

’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق، امریکہ، یورپ اور جاپان کے سائنس دان بھی ’کوانٹم فزکس‘ کے تجربات کر رہے ہیں، جس کی فوجی افادیت ہوسکتی ہے۔ تاہم، چین کی جانب سے مارچ میں اعلان کردہ پانچ سالہ معاشی ترقی کے پروگرام میں اس ٹیکنالوجی کو چوٹی کی حکمتِ عملی قرار دیا گیا ہے؛ جس کی بنیادی تحقیق پر اربوں ڈالر کی لاگت آئی ہوگی۔
باوجود اس یقین کے کہ کوئی بھی ٹیکنالوجی ناقابل تسخیر نہیں، جونز نے کہا ہے کہ خلا میں اِس کا استعمال چینی سائنس دانوں کی جانب سے حاصل کردہ اہم پیش رفت کا درجہ رکھتا ہے۔

جونز نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلے 15 برسوں کے دوران امریکی خلائی پروگرام چین سے پیچھے رہ جائے گا اگر امریکہ خلائی تحقیق کے شعبے میں مزید وسائل مختص کرنے کا عزم ظاہر نہیں کرتا۔

پراجیکٹ کے سربراہ سائنس دان، پان جیان وائی ہیں، جو ہائی فے میں چین کی ’یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘ سے وابستہ ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجربہ کامیاب ہوتا ہے تو آئندہ پانچ برسوں کے دوران چین دوسرا سیٹلائٹ روانہ کرے گا، تاکہ ’کوانٹم ٹیکنالوجی‘ کی بنیاد پر ایک نیٹ ورک تیار کیا جا سکے۔

XS
SM
MD
LG