رسائی کے لنکس

سرخ فوج کے لانگ مارچ سے جڑی سبق آموز یادیں

  • اسٹیفینی ہُو

چینی حکومت 75 سال قبل سرخ فوج کے لانگ مارچ کو انتہائی مشکل حالات میں اپنی بقا کی جد و جہد کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب کمیونسٹ فوجیں بہت کمزور تھیں اور اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور قوم پرست فوجوں سے بچنے کے لیے انھوں نے چین میں ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا تھا ۔وائس آف امریکہ کی نامہ نگار اسٹیفینی ہُو نے حال ہی میں لانگ مارچ کے راستے کا سراغ لگایا اور کئی لوگوں سے بات چیت کی جن کا خیال ہے کہ اس دور کے واقعات سے بہت سے مفید سبق سیکھے جا سکتے ہیں۔

Jinggangshan جنوب مشرقی چین میں چینی کمیونسٹوں کا ایک مشہور اڈا ہے ۔ Ms. Xu اور ان کی دو بہنیں جو شمال مشرقی Liaoning صوبے سے یہاں آئی ہیں، ایک عرصے سے Jinggangshan کی یاترا کا منصوبہ بنا رہی تھیں۔ وہ کہتی ہیں’’اس زمانے میں جب ماؤزے تنگ اور ہمارے لیڈر لڑ رہے تھے، ہم بہت غریب تھے۔ خاص طور سے دیہی علاقوں میں غربت بہت زیادہ تھی۔ لیکن انھوں نے یہ جنگ لڑی، اور چین کے تمام لوگوں کو آزاد کرایا۔‘‘

چینی حکومت آج کل ریڈ ٹورازم کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے جس میں لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ ان مقامات کا دورہ کریں جن سے کمیونسٹوں کی جدو جہد کی یادیں وابستہ ہیں اور سرخ فوج کے تاریخی کارناموں کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔Hao ان سینکڑوں ائر فورس کیڈٹس میں شامل ہیں جوYan’n میں مشہور Bao Ta Pagoda کی سیر کرنے آئے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کمیونسٹوں نے لانگ مارچ مکمل کرنے کے بعد ڈیرہ ڈالا تھا۔ وہ کہتے ہیں’’ہم یہاں ان مقامات کا تجربہ کرنے آئے ہیں جہاں پرانے زمانے میں وہ اپنے سفر کے دوران گئے تھے تا کہ ہم بہتر طریقے سے یہ سمجھ سکیں کہ ہماری ذمہ داری کیا ہے ۔‘‘

ریڈ ٹورازم سے منافع بھی کمایا جا سکتا ہے ۔ Yan’an میں دوکاندار ان لوگوں سے پیسہ کماتے ہیں جو سرخ فوج کے سپاہیوں کی وردیاں پہن کر یادگار کے طور پر تصویریں کھنچواتے ہیں۔ مسٹر Hu یہاں چھوٹی موٹی چیزیں بیچتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں’’کمیونسٹ لیڈر یہاں آتے ہیں تو ان کا ذہن صاف ہو جاتا ہے ۔ انہیں احساس ہوتا ہے کہ پرانا زمانہ کتنا اچھا تھا، آج کل کی طرح نہیں جب ہر طرف کرپشن ہے ۔‘‘

Yan’an کے انقلابی میوزیم کے سامنے ماؤزے تنگ کا بہت بڑا مجسمہ نصب ہے ۔ بہت سے چینیوں کی نظر میں، ملک کے ماضی قریب میں، ماؤ کا دور زیادہ اچھے وقت کی نمائندگی کرتا ہے جب سب لوگ ایماندار تھے ۔

ماؤ اور ان کی فوج کے لیے لانگ مارچ ، Shaanxi صوبے کے چھوٹے سے قصبے Wuqi میں اکتوبر 1935 میں ختم ہوا۔ Wuqi میں یادگار دیکھنے کے لیے آئے ہوئے ایک شخص مسٹر Li کہتے ہیں کہ چین میں امیر اور غریب کے درمیان فرق میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اس پر انہیں سخت غصہ ہے ۔ وہ کہتے ہیں’’اگر آپ غریب ہیں ، تو آپ کو پیٹ بھر کھانا مل سکتا ہے ۔ اگر آپ مالدار ہیں، تو آپ کے وارے نیارے ہیں۔ اگر آپ سگریٹ پیتے ہیں تو آپ بہترین سگریٹ پی سکتے ہیں۔ آپ چائے، شراب جو چاہے اور جتنی چاہے ، پی سکتے ہیں۔ آپ جو چاہیں اور جتنی بار چاہیں آڈر کر سکتے ہیں۔‘‘

Li کہتے ہیں کہ جدید چینی معاشرے سے اخلاقی اقدار ختم ہو گئی ہیں۔ ان کا خیا ل کہ اگر ماؤ زندہ ہوتے، تو حالات اتنے خراب نہ ہوتے۔

XS
SM
MD
LG