رسائی کے لنکس

چینی علاقائی دعوؤں کے بارے میں G7 کا بیان، چین کی برہمی


فائل

فائل

چین کی وزارتِ خارجہ نے G7 کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے، اِسے ’حقائق کے منافی‘ اور ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا ہے

چین نے دنیا کے سات اہم صنعتی ممالک کی تنظیم، G7 کی جانب سےبحیرہٴ مشرقی اور جنوبی چین سے متعلق چین کے علاقائی دعوؤں کے بارے میں دیے گئے بیان کو ’غیرذمہ دارانہ کلمات‘ قرار دیا ہے۔

جرمنی میں G7 کے سربراہ اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے بیان میں، تنظیم کے سربراہان نے ایشیائی بحری تناؤ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا، اور تمام فریق پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی حرمت کا خیال رکھیں۔

جی 7 کے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ہم زور زبردستی یا طاقت کے استعمال، اور ساتھ ہی جوں کہ توں صورت حال کو تبدیل کرنے کے تمام یکطرفہ ہتھکنڈوں کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں، جیسا کہ وسیع پیمانے پر زمین پر دعوؤں کا اقدام‘۔
اس بیان کو چین کے خلاف نکتہ چینی تعبیر کیا گیا، جو جنوبی بحیرہ چین میں مصنوعی جزیرے تعمیر کرنے کی کوششوں اور دعوؤں میں ملوث ہے۔

چین کی وزارت خارجہ نے G7 کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے، اِسے ’حقائق کے منافی‘ قرار دیا۔

’اسپارٹلی‘ نامی جزیروں میں چین زمین کو استعمال کے قابل بنانے اور ہوائی جہازوں کے ’ایئراسٹرپس‘ اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جن پر فلپین، ویتنام، ملائیشیا، برونائی اور تائیوان بھی دعوے دار ہیں۔ یہ علاقہ قدرتی معدنیات سے مالا مال اور اہم تجاری راستہ ہے۔
زمین کو استعمال کے قابل بنانے کی چین کی وسیع تر حکمت عملی پر آہستہ آہستہ عمل ہو رہا ہے۔ لیکن اِس سے، اُس کی جانب سے سمندر پر متنازع دعوؤں میں پختگی آتی جارہی ہے۔ چین کے متعدد ہمسایہ ملکوں نے اِس کا جواب آپس میں قریبی فوجی تعلقات قائم کرکے دیا ہے۔

فلپین اور جاپان نے کہا ہے کہ وہ اس ماہ کے اواخر میں بحیرہ جنوبی چین میں نئی بحری مشقوں کا نیا مرحلہ شروع کریں گے۔ فلپین اور جاپان نے پہلی بار گذشتہ ماہ باہمی بحری مشقیں کیں۔
مشرقی بحیرہ چین میں غیرآباد جزیروں کے اس سلسلے میں جاپان کے چین کے ساتھ مشکل و طویل تنازع ہے۔

ملائیشیا کے اہل کاروں نے منگل کے روز کہا ہے کہ جزیرہٴبورنیو کے ساحل کے پار چینی کوسٹ گارڈ کی جانب سے مداخلت کے معاملے پر وہ چین کے ساتھ سرکاری احتجاج درج کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔


XS
SM
MD
LG