رسائی کے لنکس

چین ایران کے جوہری عزائم کو روکنے میں مدد کرے: جرمن چانسلر


چین ایران کے جوہری عزائم کو روکنے میں مدد کرے: جرمن چانسلر

چین ایران کے جوہری عزائم کو روکنے میں مدد کرے: جرمن چانسلر

جرمن چانسلر آنگلا مرخیل نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کے کسی بھی قسم کے ممکنہ عزائم ترک کرنے پر آمادہ کرنے میں بین الاقوامی برادری کی مدد کرے ۔
جمعرات کےروز چین کے وزیر اعظم وین جیا باؤ نے بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں چانسلر مرخیل کا خیر مقدم کیا ۔ توقع ہے کہ ایران اور یورو زون کے قرض کا بحران ایجنڈے پر سر فہرست موضوع ہو ں گے ۔ دن کے شروع میں چانسلر مرخیل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ چین کے صدر ہو جنتاؤ اور وزیر اعظم وین جیاباؤ کے ساتھ ایران کے بارے میں بقول ان کے تفصیلی گفتگو کر چکی ہیں ۔

چانسلر کا کہناتھا کہ انہوں نے تسلیم کیا کہ چین ایران پر نئی پابندیوں کی مطالبوں کی حمایت نہیں کرتا، لیکن انہوں نے چین پر زور دیا کہ وہ ایران پر یہ دباؤ ڈالنےکے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے کہ دنیا میں ایک اور جوہری طاقت نہیں ہونی چاہیے ۔

یورپی یونین نے گزشتہ ہفتے ایران پر تیل کی ایک اور پابندی عائد کر دی تھی۔ چین ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے لیکن گزشتہ دو ماہ سے اس سے اپنی خریداریوں میں کمی کر دی ہے کیوں کہ دونوں فریقوں کے درمیان مبینہ طورپر 2012 ءکے ایک کنٹریکٹ کی شرائط پر کچھ اختلافات ہیں۔
Tsinghua یونیورسٹی میں یورپی امور کی ماہر پروفیسر زہانگ لیوا کہتی ہیں کہ چین اس کی مخالفت کرتا ہے ، کیونکہ وہ اسے ایران کے اندرونی معاملات سمجھتا ہے ۔
ان کا کہناتھا کہ میں سمجھتی ہوں کہ جرمن راہنما ایران کے بارے میں چین کے تازہ ترین خیالات جاننے کی کوشش کریں گی لیکن یہ کہ بیجنگ اپنا موقف صرف یورپی یونین کی وجہ سے نہیں بدلے گا ۔

یورو زون کا بحران ایک اور اہم موضوع ہے حکومت کے ایک تھنک ٹینک میں ایک تقریر میں جرمن لیڈر نے کہ چین یورپ میں قرض کےسنگین مسائل کے حل میں مدد کر سکتا ہے، لیکن انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں دیں۔

زہانگ کہتی ہیں کہ انہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ یورپی ممالک کس طرح یہ توقع کر سکتے ہیں کہ چین ان کو مالی بحران سے نجات دلا سکتا ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ بہت سے یورپی ملک ترقی یافتہ ہیں اور چین صرف ایک ترقی پذیر ملک ہے ۔ تو ایک ترقی پذیر ملک کس طرح ترقی یافتہ علاقے کو بچا سکتا ہے ۔

اس کے ساتھ ساتھ یورپ چین کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور زہانگ کا کہنا ہے کہ بیجنگ اس چیز سے آگاہ ہے کہ یورپی قرضوں کے بحران سے وہاں چین کی برآمدات کو کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں یہ توقع نہیں ہے کہ چین یورپ میں کوئی بڑی یا بڑے پیمانے کی کوئی مداخلت کرے گا لیکن وہ اپنے قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئےا س سلسلےمیں کچھ نہ کچھ مدد جاری رکھے گا۔

جمعے کے روز مز مرخیل صدر ہو جنتاؤ سےملاقات کریں گی اور جنوبی تجارتی شہر گوانگ زہومیں چینی جرمن تاجروں کے ایک فورم میں شرکت کریں گی ۔

XS
SM
MD
LG