رسائی کے لنکس

چین اور دیگر ممالک کی طرف سے اعلان کردہ اس بینک کا نام ’ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک‘ رکھا گیا ہے۔

چین اور اکیس دیگر ممالک نے ایک بین الاقوامی ترقیاتی بینک کے قیام پر اتفاق کیا ہے جس کا مقصد ایشیا بھر میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے ’فنڈز‘ کی فراہمی ہو گی۔

تاہم امریکہ اور تین دیگر ممالک، جنہیں مدعو کیا گیا تھا اُنھوں، نے اس تجویز پر تنقید کی اور جمعہ کو اس بارے میں افتتاح کی تقریب میں بھی شریک نہیں ہوئے۔

چین اور دیگر ممالک کی طرف سے اعلان کردہ اس بینک کا نام ’ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک‘ رکھا گیا ہے۔

اس کے ممبر ممالک میں میانمار، ویتنام، لاؤس، کمبوڈیا اور فلپائن شامل ہیں جب کہ جنوبی ایشیائی ممالک میں سے بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال بھی اس پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہیں۔

امریکہ سمجھتا ہے کہ اس اقدام سے ورلڈ بینک اور ایشیائی بینک جیسے مضبوط ادارے کمزور ہو سکتے ہیں۔

امریکہ اور اس کے قریبی اتحادی ممالک جاپان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا اس معاہدے کا حصہ نہیں بنے۔

چین اس بینک کے لیے ابتدائی طور پر نصف سرمایہ یعنی پچاس ارب ڈالر دے گا۔ چین کا ماننا ہے کہ اس نئے بینک کے قیام کے بعد عالمی سطح پر اس کے اثرورسوخ اور وقار میں اضافہ ہو گا۔

XS
SM
MD
LG