رسائی کے لنکس

چین میں خرگوش کے سال کا جشن


چین میں خرگوش کے سال کا جشن

چین میں خرگوش کے سال کا جشن

چین میں نئے چینی سال کا آغاز پر خوشی کے اظہار کے لیے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر آتش بازی کے مظاہرے کیے گئے اور اس موقع پر خاندان کے افراد اپنے دوست احباب کے ساتھ ضیافتوں میں شریک ہوئے۔ نئے چینی سال کا نشان خرگوش ہے۔

چینی وزیر اعظم وین جیاباؤ نے نئے سال کے موقع پر عوام سے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کی حکومت افراط زر اور املاک پر سٹے بازی کی روک تھام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ گذشتہ 12 ماہ سے چین کو ان دوبڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔

ملک بھر میں چینیوں نے خرگوش کے سال کا آغاز رنگارنگ تقریبات اور آتش بازی کے مظاہروں سے کیا۔اس قدیم روایت کا مقصد بدرحوں کو دور بھگانا اور اچھے مستقبل کی سمت قدم بڑھانا ہے۔

نئے سال کے استقبال کے لیے بدھ کی نصف شب چینی خاندانوں کے افراد اپنے گھروں سے باہر آگ کے الاؤ کے گرد جمع ہوئے تاکہ اگلے 12 مہینوں کے لیے وہ اپنی خواہشات کی تکمیل کی دعا مانگ سکیں۔

لی یانگ اپنے گھر سے دور شہر کی ایک فیکٹری میں کام کرتی ہیں اور وہ نئے سال کا آغاز روایتی انداز میں اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ انہیں توقع ہے کہ نیا سال ان کے لیے، ان کے خاندان اور ملک کے لیے معاشی خوشحالی لے کرآئے گا۔

ان کا کہناہے کہ انہیں اپنی حکومت پر بھروسہ ہے اور وہ ملک کو آگے لے جانے اور چینیوں کی زندگیاں بہتر بنانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

جب کہ ایک اور چینی ما ژونگ ہوا موجودہ صورت حال سے مطمئن نہیں ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ اپنے لیے مکان خرید سکیں کیونکہ جائیداد کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ تاہم دوسرے بہت سے چینیوں کی طرح وہ بھی اپنے معاشرے کو خوشحال اور ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں۔

خرگوش کے سال سے پہلے کا چینی سال ٹائیگر کاسال تھا ، جس کے بارے میں چینیوں کے ملے جلے جذبات ہیں۔ وہ کہتے ہیں گذر جانے والے سال کے دوران تیز تر معاشی ترقی جاری رہی مگر افراط زر اور جائیداد کی قیمتوں میں بہت زیادہ ا ضافے نے ان کی مشکلات میں اضافہ کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے پچھلے سال کے دوران مزدورں کی ہڑتالوں اور اجرتوں میں اضافوں نے معیشت کو پریشان کیا۔

وزیر اعظم وین جیاباؤ نے اپنے نئے سال کے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ حکومت معاشی مسائل پر قابو پانے اور قیمتوں کو عام افراد کی دسترس میں رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ تاہم انہوں نے چینیوں سے یہ بھی کہا کہ انہیں اگلے سال کے دوران بھی ان مسائل کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

جنوبی کوریا، سنگاپور، انڈونیشیا اور ویت نام میں بھی اس ہفتے نئے چینی سال کی تقریبات کا سلسلہ جاری ہے ۔ ان ممالک میں زیادہ تر کاروباری ادارے بند ہیں اور لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ روایتی ضیافتوں کا لطف اٹھارہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG