رسائی کے لنکس

نوبیل امن کمیٹی کے فیصلے پر چین برہم


نوبیل امن کمیٹی کے فیصلے پر چین برہم

نوبیل امن کمیٹی کے فیصلے پر چین برہم

چین نے نارویجئن نوبیل کمیٹی کی جانب سے ایک حکومت مخالف چینی سماجی کارکن کو سال 2010 کا نوبیل ایوارڈ برائے امن دیے جانے کے فیصلے پر سخت برہمی کا اظہا رکیا ہے۔

چینی کی وزارتِ خارجہ نےنوبیل کمیٹی کے انتخاب پر فوری اور سخت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کیا جس میں فیصلے کو "توہین آمیز" اور "نوبیل انعام کے مقاصدسے متصادم" قرار دیا گیا ہے۔

بیان میں خبردار کیا گیاہے کہ نوبیل کمیٹی کا فیصلہ چین اور ناروے کے باہمی تعلقات کیلیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگا۔

نارویجیئن نوبیل کمیٹی نے اوسلو میں جمعہ کے روز چین میں قید سرکردہ حکومت مخالف سماجی کارکن لیو ژاؤبو کو "چین میں بنیادی انسانی حقوق کے لیے طویل اور پر امن جدوجہد" کرنے کے اعتراف میں اس سال کا نوبیل امن انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔

لیو کو گذشتہ برس دسمبر میں لوگوں کو "ریاست کے خلاف تخریب کاری کی ترغیب دلانے" کے جرم میں 11 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ نوبل کمیٹی کا کہنا تھا کہ لیو کو دی جانے والی سخت سزا کے بعد وہ چین میں انسانی حقوق سے متعلق جدوجہد کی 'اولین علامت' بن گئے ہیں۔

چینی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں نوبیل امن کمیٹی کو لیو ژاؤبو کے ممکنہ انتخاب پر کئی بار دبے لفظوں میں خبردار کیا گیا تھا۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان جیانگ یو نے کچھ روز قبل بھی ایک پریس بریفنگ میں ژائوبو کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ انہیں چین کی عدالتوں کی جانب سے مقامی قوانین کی خلاف ورزی کے جرم میں قید کی سزا سنائی گئی ہےلہذا اِس اعلیٰ درجے کے انعام کیلیے ان کا انتخاب درست تصور نہیں کیا جائے گا۔

لیو ژائوبو کو امن کا نوبیل انعام دیے جانے کی خبر چین کے مقامی میڈیا نے نشر نہیں کی جبکہ عالمی نشریاتی اداروں کی جانب سے خبر کی کوریج کے دوران چین میں ان کی نشریات کو عارضی طور پر بلاک کردیا گیا ۔

XS
SM
MD
LG