رسائی کے لنکس

جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یون ہیپ کے مطابق شمالی کوریا کی چند کمپنیاں اور حکومت سے منسلک کاروباروں نے چین کی طرف سے لگنے والی ممکنہ پابندیوں کے پیش ِنظر اقدامات اٹھانا شروع کر دئیے ہیں

شمالی کوریا کی جانب سے اس دھمکی کے بعد کہ وہ اپنا تیسرا جوہری تجربہ کرے گا، عالمی برادری کی طرف چین پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ پیانگ یانگ پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کی حمایت کرے۔

دسمبر میں شمالی کوریا کی جانب سے دور فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ کا تجربہ کرنے کے بعد چین نے اقوام ِ متحدہ کی اس قرارداد کی حمایت کی تھی جس کی رو سے پیانگ یانگ پر جوہری پروگرام کو جاری رکھنے کی پاداش میں سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

اس قرارداد میں اقوام ِمتحدہ کے رکن ممالک پر زور دیا گیا تھا کہ وہ اپنے اپنے ممالک میں شمالی کوریا سے منسلک مالیاتی اداروں اور تنظیموں پر نظر رکھیں۔ اس قرارداد کی رو سے ان لوگوں پر سفر کی پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے جو کسی بھی طرح شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے وابستہ ہیں۔

ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اگر شمالی کوریا نے ایک اور جوہری تجربہ کیا تو چین کا اس پر کیا رد ِعمل ہوگا۔ چین اقوام ِمتحدہ کی سیکورٹی کونسل کا ایک مستقل رکن ہے اور امید کی جارہی ہے کہ وہ اقوام ِمتحدہ کی طرف سے شمالی کوریا پر عائد کی گئی نئی پابندیوں کی حمایت کرے گا۔

ایشیا کی صورتحال کا جائزہ لینے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ چین ایسے اقدامات کی حمایت کرے گا۔ ژو بنگ ہانگ کانگ میں میڈیا سٹیڈیز پڑھاتے ہیں، ان کے مطابق، ’’چین شمالی کوریا کے بنک اکاؤنٹس منجمند کر سکتا ہے یا تجارت کے معاہدے منسوخ کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود چین شمالی کوریا کو انسانی ہمدردی اور پرانے تعلقات کی بنیاد پر امداد فراہم کرتا رہے گا۔‘‘

جنوبی کوریا کے خبررساں ادارے یون ہیپ کے مطابق شمالی کوریا کی چند کمپنیاں اور حکومت سے منسلک کاروباروں نے چین کی طرف سے لگنے والی ممکنہ پابندیوں کے پیش ِ نظر اقدامات اٹھانا شروع کر دئیے ہیں۔

یون ہیپ کے مطابق اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ چین میں شمالی کوریا سے منسلک تنظیمیں اور ادارے چین کے بینکوں سے اپنی رقم نکلوا رہے ہیں یا اپنے اداروں کے نام بدل رہے ہیں۔

چین شمالی کوریا کا اہم اتحادی اور تجارتی ساتھی ہے۔ چین کو ایک ایسے ملک کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے جو پیانگ یانگ پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
XS
SM
MD
LG