رسائی کے لنکس

چین کی حکومت نے لگ بھگ ایک برس کے تعطل کے بعد جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کے منصوبوں کو دوبارہ بحال کردیا ہے۔

چینی حکومت نے گزشتہ برس مارچ میں جاپان میں آنے والے زلزلے اور سونامی کے نتیجے میں 'فوکو شیما جوہری بجلی گھر' کے حادثے کے بعد جوہری توانائی کے کئی منصوبوں پر کام روک دیا تھا۔

چین کے جوہری توانائی سے متعلق حکومتی عہدیداران نے رواں ہفتے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے نئی جوہری بجلی گھروں کی منظوری اور تعمیر پر عائد پابندی اٹھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

چین کےوزیرِاعظم وین جیا بائو نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک محفوظ اور موئثر انداز سے جوہری بجلی پیدا کرے گا۔

جاپان کے 'فوکو شیما بجلی گھر' سے تابکاری کے اخراج کے بعد چینی حکومت نے جوہری بجلی گھروں کی منظوری کے منتظر تمام منصوبوں پر کام روک دیا تھا جب کہ پہلے سے موجود بجلی گھروں کے حفاظتی معائنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔

جوہری بجلی پر انحصار میں اضافہ چینی حکومت کی توانائی پالیسی کا اہم حصہ ہے جس کا مقصد توانائی کے ذرائع میں تنوع لانا ہے۔ چین اس وقت اپنی 80 فی صد بجلی کوئلے سے پیدا کر رہا ہے جسے ماحول دشمن ایندھن تصور کیا جاتا ہے۔

اس کے برعکس جوہری ذرائع کو توانائی کے حصول کا شفاف ذریعہ اور ماحول دوست سمجھا جاتا ہے کیوں کہ اس کی پیداوار کے دوران میں کاربن کا اخراج نہ ہونے کے برابر ہے۔ چین اس وقت اپنی ضروریات کی صرف دو فی صد بجلی جوہری ذرائع سے پیدا کرتا ہے۔

توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے اور ماحول دشمن ذرائع پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے چینی حکومت 2020ء تک جوہری بجلی کی موجودہ پیداوار کو دگنا سے بھی زیادہ کرنا چاہتی ہے۔

XS
SM
MD
LG