رسائی کے لنکس

چین کے تائیوان کے امور کے دفتر کے سربراہ زانگ زیجن بدھ کو تائیوان کے چار روزہ دورے پر خود مختار جزیرے کے سب سے بڑے ہوائی اڈے پر پہنچے۔

چین نے پہلی بار ایک وزارتی سطح کے عہدیدار کو تائیوان کے دور ے پر بھیجا ہے جسے چین کا سرکاری میڈیا چین اور تائیوان کے تعلقات کے لیے ایک ' اہم پیش رفت ' قرار دے رہا ہے۔

چین کے تائیوان کے امور کے دفتر کے سربراہ زانگ زیجن بدھ کو تائیوان کے چار روزہ دورے پر خود مختار جزیرے کے سب سے بڑے ہوائی اڈے پر پہنچے۔

وہ اپنے ہم منصب وانگ یو چی سے ملاقات کریں گے جنہوں نے فروری میں چین کا دورہ کیا تھا اور اس دوران چین اور تائیوان کے درمیان 65 سال پہلے ہونے والی خانہ جنگی کے بعد پہلی سیاسی بات چیت ہوئی۔

دونوں اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان بات چیت کے ایجنڈے میں دو طرفہ تجارت کو فروغ اور تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ایک دوسرے کے علاقے میں قونصل خانے کھولنا بھی شامل ہے۔

چین اور تائیوان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کے باوجود تائیوان کے زیادہ تر عوام یہ سمجھتے ہیں کہ تائیوان کا چین پر انحصار بڑھے گا جو پہلے ہی ایک (تائیوان کا) اہم تجارتی شراکت دار ہے۔

اس سال مارچ میں طلباء نے تائیوان کی پارلیمان پر قبضہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت چین کے ساتھ ایک متنازع تجارتی معاہدے کو منسوخ کرے جو ان کے بقول شفاف نہیں تھا۔

طلباء نے پارلیمان کو اس وقت خالی کیا جب عہدیداروں نے وعدہ کیا کہ ایسا قانون منظور کیا جائے گا جس کے ذریعے چین سے کیے گئے معاہدوں پر نظر رکھی جا سکے گی۔

تائیوان 1949ء کی خانہ جنگی کے بعد چین سے الگ ہو گیا تھا لیکن چین اب بھی اس کو اپنے سے علیحدہ ہونے والا صوبہ سمجھتا ہے جو اس کے خیال میں ایک دن دوبارہ چین کے ساتھ مل جائے گا۔

XS
SM
MD
LG