رسائی کے لنکس

چین کا دہشت گردی کا الزام، پاکستان کے لیے اچھی خبر نہیں: تجزیہ کار

  • شہناز نفیس

چین کا دہشت گردی کا الزام، پاکستان کے لیے اچھی خبر نہیں: تجزیہ کار

چین کا دہشت گردی کا الزام، پاکستان کے لیے اچھی خبر نہیں: تجزیہ کار

’یہ إِس لیے مضطرب کرنے والی خبر ہے کہ پاکستان کے تعلقات امریکہ کے ساتھ اور مغربی حلیفوں کے ساتھ کشیدہ ہیں اور آڑے وقت میں ہمیشہ پاکستان نے چین کا رُخ کیا ہے، جِس کے ساتھ پاکستان کی ایک پرانی وابستگی ہے اور جِن کے تعلقات ہمیشہ عمدہ رہے ہیں ‘ پاکستان کوئی ایسی بات نہیں ہونے دے گاجِس سے ایسے واقعات کو یا اِس طرح کی تحریک کو مدد ملے: جاوید حسین

گذشتہ روز چین کے صوبے سنکیانگ میں مبینہ مسلم شدت پسندوں نے شہریوں کو نشانہ بنایا جِس میں کئی لوگ ہلاک ہوئے۔

چین کے اِس الزام کے جواب میں کہ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ(ای ٹی آئی ایم)سے منسلک انتہا پسندوں نے پاکستان میں ایک کالعدم تنظیم سے تربیت حاصل کی تھی۔پاکستان نے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف چین کے ساتھ بھرپور تعاون کا عزم رکھتا ہے۔

پاکستان کے ایک سابق سفیر جاوید حسین نے موجودہ صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ چین میں دہشت گرد عناصر کے خلاف اپنی مدد کا یقین دلایا ہے اور اِس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنی یہ پالیسی جاری رکھے گا۔

پیر کو’وائس آف امریکہ‘ سے بات چیت میں جاوید حسین نے کہا کہ کافی عرصے سے کچھ لوگ چین کے صوبہٴ سنکیانگ میں چینی حکومت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں’ جِس کی پاکستان بالکل حمایت نہیں کرتا، اور پاکستان نے ہمیشہ بھرپور طور پر چین کو اپنی مدد کا یقین دلایا ہے‘۔اُنھوں نے توقع ظاہر کی کہ پاکستان یہ پالیسی جاری رکھے گا۔

جاوید حسین کے بقول، پاکستان کوئی ایسی بات نہیں ہونے دے گاجِس سے ایسے واقعات کو یا اِس طرح کی تحریک کو مدد ملے۔

مبینہ طور پر پاکستان میں تربیت کے معاملے پر سوال کے جواب میں، اُنھوں نے کہا کہ ’پاکستانی حکومت کو چاہیئے کہ اِن الزامات یا واقعات کی اچھی طرح تحقیقات کی جائے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان سرحد پر کافی ایسے علاقے ہیں جہاں پر نہ افغانستان نہ ہی پاکستان کا کوئی کنٹرول ہے۔ ’ہو سکتا ہے کوئی ایسی بات ہوئی ہو۔ اگر ایسی کوئی بات ہوئی بھی ہے تو صاف ظاہر ہے کہ وہ حکومتِ پاکستان کے علم کے بغیر ہوئی ہے ۔ پاکستان حکومت کے بیان سے لگتا ہے کہ وہ اِس قسم کی چیزوں کو برداشت نہیں کرے گی اور نہ کرنا چاہیئے۔ ایسے تمام اقدامات لینے چاہئیں کہ آئندہ ایسا نہ ہو۔‘

سیاسی تجزیہ کار پروفیسر رسول بخش رئیس کی نظر میں یہ واقعہ پاکستان کے لیے کچھ اچھی خبر نہیں ہے۔ اُن کے بقول، ’یہ إِس لیے مضطرب کرنے والی خبر ہے کہ پاکستان کے تعلقات امریکہ کے ساتھ اور مغربی حلیفوں کے ساتھ کشیدہ ہیں اور آڑے وقت میں ہمیشہ پاکستان نے چین کا رُخ کیا ہے، جِس کے ساتھ پاکستان کی ایک پرانی وابستگی ہے، اور جِن کے تعلقات ہمیشہ عمدہ رہے ہیں۔ ‘

رسول بخش رئیس کے خیال میں یہ کام پاکستان کے دشمنوں کا ہے۔ اِس سلسلے میں اُنھوں نے یاد دلایا کہ چین کی کمپنیوں اور چین کے شہری جو پاکستان میں بڑے بڑے منصوبوں پر کام کر رہے تھے اُن کو بھی ماضی میں ہدف بنایا جا چکا ہے۔ اُن کے بقول، یہ بھی غالباً وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو پاکستان اور چین کے تعلقات کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کےخلاف جنگ میں پاکستان نے ہمیشہ چین سے کافی تعاون جاری رکھا ہے اور مستقبل میں بھی رکھے گا۔اُنھوں نے بتایا کہ پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل جنرل پاشا چین کے دورے پرروانہ ہو گئے ہیں۔

اِس استفسار پر کہ اِس واقعے یا الزام کے پاک چین دوستی پرکیا نتائج برآمد ہوں گے، رسول بخش رئیس نے کہا کہ منفی اثرات نہیں پڑیں گے، کیونکہ چین کی حکومت اورعوام سمجھتے ہیں کہ پاکستان اِس وقت کافی مشکل صورتِ حال سے گزر رہا ہے اور جہاں پاکستان اپنی جانیں قربان کر رہا ہےوہاں چین کے لوگ بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو تاریخ کا ایک مشکل مرحلہ درپیش ہے۔

جِس کے پیشِ نظر ، اُن کے خیال میں، چین کی حکومت تعلقات کو ختم کرنے یا اُن کو نچلی سطح پر لے جانے کا کوئی اقدام کرے گی۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG