رسائی کے لنکس

این پی سی کی قائمہ کمیٹی سے منسلک زنگ شوناں کا کہنا ہے کہ " یہ بل بیجنگ کی طرف سے قومی سلامتی کی صورت حال کے ردعمل میں ہے جو شدید ہوتی جا رہی ہے"۔

چین کی پارلیمان نے قومی سلامتی کے متعلق ایک قانون کی منظوری دی ہے جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے سیاسی اختلاف رائے کے خلاف جبر کو مزید وسعت ملے گا۔

سرکاری خبر رساں ادارے شینخوا کے مطابق چین کی نیشنل پیپلز کانگرس (این پی سی) نے بدھ کو اس بل کو پاس کیا جس کے حق میں 144 ووٹ آئے جب کہ ایک رکن غیر حاضر تھا۔

اس قانون کے مطابق حکام کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ علاقائی سلامتی کے تحفظ اور ملک کے انٹرنیٹ، جو پہلے ہی سخت سنسر کا شکار ہے، کے لیے اقدام کر سکیں گے۔

این پی سی کی قائمہ کمیٹی سے منسلک زنگ شوناں کا کہنا ہے کہ " یہ بل بیجنگ کی طرف سے قومی سلامتی کی صورت حال کے ردعمل میں ہے جو شدید ہوتی جا رہی ہے"۔

حقوق کی تنظمیوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون سکیورٹی ایجنسیوں کو بہت زیادہ اختیار دیتا ہے اور اگرچہ یہ بہت وسیع ہیں تاہم یہ جرم کی واضح تعریف نہیں کرتا ہے۔

چین کے انسانی حقوق کا دفاع کرنے والا ایک گروپ اس سال کے اوائل میں اس بل کے ڈرافٹ کے بارے میں کہہ چکا ہے کہ "یہ (قانون) چین حکومت کی طرف سے سیاسی، نسلی اور مذہبی اختلاف رائے کے خلاف منظم جبر اور شہری آزادیوں کے خلاف سخت کارروائیوں کا قانونی جواز فراہم کرے گا"۔

ایک نیوز کانفرنس کے دوران زنگ نے اس بل کا یہ کہتے ہوئے دفاع کیا کہ "جب ملک کے بنیادی مفادات کے تحفظ کا معاملہ ہو تو کوئی بھی حکومت مضبوطی کے ساتھ کھڑی رہے گی اور وہ تنازعات، سمجھوتوں اور مداخلت کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑے گی"۔

2012ء میں اقتدار پر فائز ہونے کے بعد چینی صدر شی جنپنگ نے قومی سلامتی کے معاملے کو اولین ترجیح قراردیا ہے۔

چین کو درپیش بڑے سکیورٹی چیلنجوں میں بحیرہ چین کے مشرق اور جنوب میں علاقائی تنازعات اور سنگکیانگ کے خطے می بڑھتی ہوئی بد امنی ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ سائبر حملوں کا بھی ہدف ہے۔

XS
SM
MD
LG