رسائی کے لنکس

چین: سیاسی اصلاحات کے مطالبے مسترد


چین: سیاسی اصلاحات کے مطالبے مسترد

چین: سیاسی اصلاحات کے مطالبے مسترد

حکومت مخالف لوگوں کی پکڑ دھکڑ کے ایک سال بعد چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی نے اپنے ارکان کو بتایا ہے کہ وہ کبھی بھی مغربی جمہوریتوں کی نقل نہیں کرے گی۔

چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کے دوسرے اعلیٰ ترین عہدے دار وو بانگو نے ملک کے سیاسی نظام میں ردوبدل کی اپیلوں کو مسترد کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیجنگ ، چینی خصوصیات کی حامل سیاسی ترقی کے سوشلسٹ راستے پر مسلسل چلتا رہے گا۔

مسٹر وو نے کہا کہ ملک کا کمیونسٹ نظام چین کے لیے منفرد طورپر موزوں ہے اور انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت مغربی ملکوں کے نظاموں کی کبھی نقل نہیں کرے گی۔

مسٹر وو نے منگل کے روز یہ بات چین کے نسبتاً بے اختیار قانونی ادارے نیشنل پیپلز کانگریس (این پی سی )سے خطاب کے دوران کہی ۔ چینی راہنما اس طرح کے تبصرے بالعموم کرتے رہتے ہیں۔

چین کی سیاست سے متعلق ماہرین کا خیال ہے کہ ایسا اس لیے ہے کہ حکومت مخالفین کی آوازوں کو گذشتہ سال پکڑ دھکڑ کے دوران بڑے مؤثر طریقے سے خاموش کرا دیا گیا ہے اور کمیونسٹ پارٹی اب کسی سے زیادہ خطرہ محسوس نہیں کرتی۔

ایک سال قبل مسٹر وو اور دوسرے چینی راہنما ؤں کو بنیادی نوعیت کی اصلاحات کی اپیلوں میں اضافے نے پریشان کردیا تھا۔

ان میں بڑے پیمانے کی سیاسی تبدیلیوں سے متعلق ایک دستاویز’ چارٹر 08‘ تیار کرنے والی مرکزی شخصیت لیو زیاؤ بوشامل تھے ۔ اس دستاویز کو لوگوں کی بڑی حمایت حاصل ہوئی تھی۔ زیاؤبو کو دسمبر میں 11 سال سے زیادہ مدت کے لیے جیل بھیج دیا گیا تھا۔

گذشتہ سال کئی دوسرے سرگرم کارکنوں کو بھی جیل میں ڈال دیا گیاتھا۔

تاہم مسٹر وو نے ان لاکھوں چینیوں کے خدشات پر بات کی جو بدعنوان قانونی نظام اور سوشل سیکیورٹی کے قانون میں موجود ان بے انصافیوں پر برہم ہیں ، جن کے باعث امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھ گیاہے۔

مسٹر وو کہتے ہیں این پی سی کا وفد سوشل سیکیورٹی کے قانون کے مسودے کو حتمی شکل دے گا اور قانونی نظام میں کچھ ایسی تبدیلیاں لائے گا جن کے نتیجے میں لوگوں کے خدشات دورکرنے اور سماجی ہم آہنگی اور استحکام بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

XS
SM
MD
LG