رسائی کے لنکس

چین جیسے ملک میں جہاں ہر چیز پر حکومت کا سخت کنٹرول ہے، تبدیلی لانا آسان نہیں۔ ایک حالیہ مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ اصلاحات کی ضرورت کے بارے میں شعور بڑھتا جا رہا ہے، بلکہ حکومت تبدیلی لانے سے گریز کر رہی ہے۔

چین میں قیادت میں تبدیلی آئے چند ہفتے ہوئےہیں لیکن عام لوگوں میں اصلاحات کی توقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ معیشت میں سست رفتاری، چین کا قانونی نظام، حکومت میں کرپشن میں کمی، یہ وہ چند شعبے ہیں جن میں لوگ اصلاحات کی آس لگائے ہوئےہیں۔

چین کا کوئی اخبار دیکھیئے، چینی زبان کی کسی نیوز ویب سائٹ پر یا ٹوئٹر جیسی انتہائی مقبول مائیکرو بلاگنگ سروسز پر کلک کیجیئے، ہر طرف آپ کو اصلاحات پر بحث ہوتی نظر آئے گی ۔

بیجنگ کی رنمن یونیورسٹی میں سیاسیات کے ماہر جن کانرونگ تسلیم کرتے ہیں کہ لوگ اصلاحات کی تجویزوں پر توجہ دے رہےہیں۔

’’اگرچہ ہر کوئی اصلاحات کی امید کر تا ہے، لیکن یہ بات واضح نہیں ہے کہ ان کا اصل مقصد کیا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، میری اصلاحات آپ کی اصلاحات سے مختلف ہو سکتی ہیں اور 100 لوگوں کے دلوں میں مختلف خیالات آ سکتےہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل اس موضوع پر اتنے زور شور سے بحث ہو رہی ہے۔‘‘

بعض تجاویز میں انقلابی تبدیلیوں کے لیے کہا گیا ہے۔ پیر کے روز، بیجنگ کے کئی اخباروں نے چین کے ایک نئے لیڈر وانگ کشان کے بارے میں اور ایک حالیہ میٹنگ کے بارے مضامین شائع کیے جس میں کہا گیا تھا کہ سرکاری عہدے داروں کو اپنے اثاثوں کا اعلان کرنا چاہیئے ۔ اس قسم کی شفافیت ایسی حکومت کے لیے جس میں چیزوں کو خفیہ رکھنا اہم ہے، انقلابی اقدام ہو گا۔

گذشتہ ہفتے کے آخر میں، کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر ژی جنپنگ نے ایک تقریر کی جس کا موضوع چینی قوم کی عظیم تجدید تھا۔ سرکاری میڈیا نے اس تقریر کی بڑی پیمانے پر تشہیر کی۔

جن کانگرونگ کہتے ہیں کہ ژی کی تقریر میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ ملک کو از سرِ نو توانائی دینا قومی ہدف ہے، اور چین اس ہدف کو اس طرح حاصل کر سکتا ہے کہ جب کبھی اور جہاں کہیں اصلاحات ضروری ہوں، ان پر عمل کیا جائے ۔

’’چین کے لیڈروں کے لیے اصلاحات بذاتِ خود ہدف نہیں ہیں۔ یہ ایک ذریعہ ہیں جنہیں محض اصلاحات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیئے بلکہ انہیں زیادہ اہم اہداف کے حصول کے لیے استعمال کیا جانا چاہیئے جیسے ملک کو دوبارہ توانائی دینا۔‘‘

بعض مغربی تجزیہ کاروں کو یقین ہے کہ ژی اور ان کی چھ دوسرے چینی عہدے داروں کی ٹیم سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں زیادہ شفافیت حاصل نہیں کر سکے گی ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ چین کے نظام حکومت میں بہت زیادہ رکاوٹیں حائل ہیں۔ فوج ہے، سیکورٹی کا نظام ہے، ملک کے طاقتور اور مالدار سرکاری ملکیت والے کاروبار ہیں، اور دوسری طاقتیں ہیں جن کی وجہ سے تبدیلی ناممکن ہو جائے گی۔

حکومت کے ناقدین، جیسے نابینا چینی سرگرم کارکن چن گوانگچنگ انتباہ کر رہے ہیں کہ چین کو فوری طور پر اصلاحات کرنی چاہئیں یا پھر کہیں زیادہ سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔

’’پوری قوم کی نظریں ژی پر لگی ہوئی ہیں کہ کیا وہ لوگوں کی بات سننے اور اصلاحات کرنے کو تیار ہیں یا وہ حکومت کو ہائی جیک کریں گے اورحکمرانوں کی حفاظت کریں گے۔ چن کہتے ہیں کہ اگر ژی انسانی حقوق کے دفاع کے لیے اور قانون کی حکمرانی کی پاسداری کے لیے قدم نہیں اٹھاتے، تو چین میں پر تشدد تبدیلی آئے گی۔

لیکن چین جیسے ملک میں جہاں ہر چیز پر حکومت کا سخت کنٹرول ہے، تبدیلی لانا آسان نہیں۔ ایک حالیہ مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ اصلاحات کی ضرورت کے بارے میں شعور بڑھتا جا رہا ہے، بلکہ حکومت تبدیلی لانے سے گریز کر رہی ہے۔

اتوار کے روز، سرکاری نیوز میڈیا نے عدالت کے ایک اہم فیصلے کے بارے میں چینی اخباروں کی رپورٹوں کا ذکر کیا۔

ان رپورٹوں کے مطابق، ایک شخص کو ڈیڑھ سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ اس شخص نے غیر قانونی طور پر ایسے لوگوں کو حراست میں رکھا جو اپنی شکایتیں مرکزی حکومت کے سامنے پیش کرنے کے لیے بیجنگ آئے تھے۔

اس قسم کے حراستی مراکز یا بلیک جیلیں چین میں ایک عرصے سے متنازع رہی ہیں۔ سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ بیجنگ کے ار د گرد اس قسم کی 70 سے زیادہ جیلیں موجود ہیں۔

ان کے خلاف عدالت کے فیصلے سے اس بات کا اظہار ہو تا کہ حکومت نے ان کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے ۔ تا ہم، جیسے ہی عدالت کے فیصلے کے بارے میں خبر شائع ہوئی، سرکاری میڈیا نے اسے واپس لے لیا اور بعد میں کہا کہ یہ خبر غلط تھی۔

جب پیر کے روز وزارتِ خارجہ سے اس پر اسرار رپورٹ کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو ترجمان نے جواب دیا کہ بلیک جیلوں کا کوئی وجود نہیں ہے ۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جب تک بعض مسائل کو بہت زیادہ حساس سمجھا جاتا رہے گا اور ان پر توجہ نہیں دی جائے گی، اصلاحات کے امکانات روشن نہیں ہوں گے ۔
XS
SM
MD
LG