رسائی کے لنکس

آلودگی پیدا کرنے والی صنعتوں، تعمیراتی سرگرمیوں اور عمارتوں کو گرم رکھنے کے لیے وسیع پیمانے پر کوئلے کے استعمال کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

گذشتہ ہفتے چین کے بہت سے علاقے دھند کی گہری چادر سے ڈھکے رہے۔ آلودگی اس سطح سے کہیں زیادہ تھی جسے انسانی صحت کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ آلودگی سے بھر پور دنوں کی تعداد اب اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ بیجنگ جیسے شہروں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ ہوا کو صاف کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔

چین میں بہت سے لوگوں کے لیے، جنوری میں آلودگی کی سطح اتنی زیادہ تھی کہ ان کی زندگی دوبھر ہو گئی تھی۔ ہوا میں آلودگی کے ذرات طویل عرصے کے لیے غیر صحت مند سطح سے اوپر پہنچ گئے تھے۔ مہینے کے آخر میں، شمال میں لی آؤننگ سے لے کر جنوب میں گوآنگ ڈانگ تک ، تمام شہروں اور قصبوں پر دھند کے بادل چھائے رہے۔

اس صورتِ حال کے لیے آلودگی پیدا کرنے والی صنعتوں، تعمیراتی سرگرمیوں اور عمارتوں کو گرم رکھنے کے لیے وسیع پیمانے پر کوئلے کے استعمال کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ حکام نے بتایا کہ موسمی حالات کی وجہ سے یہ مسئلہ اور زیادہ سنگین ہو گیا تھا۔ لیکن موٹر کاروں پر بھی روز بروز زیادہ توجہ دی جا رہی ہے، خاص طور سے بیجنگ جیسے شہروں میں، جہاں حالیہ برسوں میں موٹر کاروں کی تعداد میں بے انتہا اضافہ ہو گیا ہے۔

بیجنگ میں حکومت نے پرائیویٹ گاڑیاں چلانے والوں پر پہلے ہی پابندی لگا دی ہے کہ وہ ہفتے میں کم از کم ایک روز گاڑی نہ چلائیں، لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ پابندی کافی نہیں ہے۔

31 سالہ ژو یوان ایک اسٹور میں کام کرتے ہیں۔ وہ کہتےہیں کہ معقول بات یہی ہے کہ حکومت زیادہ پابندیاں لگانے پر غور کرے۔

ژو کا کہنا ہے کہ اس سے بعض لوگوں کو باہر جانے میں دقت تو ہوگی لیکن زیادہ پابندیاں لگانا مجموعی طور پر، ماحول کے لیے بہتر ہو گا۔

لیکن جو لوگ اپنی کار چلاتے ہیں، ان کا خیال اس سے مختلف ہے۔ وانگ کہتے ہیں کہ گاڑیا ں چلانے پر پابندیاں اس مسئلے کا صرف ایک حل ہیں۔

وانگ کہہ رہے ہیں کہ بیجنگ کے ار د گرد قائم ہونے والی فیکٹریوں اور تعمیراتی کام سےبھی یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے ۔ شاید آسان ترین حل تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ گاڑیاں چلانے پر کچھ پابندی لگا دی جائے، لیکن صنعتی آلودگی پر توجہ دینے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

وانگ بنگ آنے جانے کے لیے اپنی کار پر انحصار کرتےہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اور زیادہ پابندیاں لگائی گئیں تو بڑی مشکل ہو جائے گی کیوں بہت سے لوگوں کو اپنی کار چلانے کی عادت پڑ گئی ہے۔

وانگ کہتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ مزید پابندیوں سے آنا جانا مشکل ہو جائے گا بلکہ بہت سے لوگ محسوس کرنے لگیں گے جیسے ان کی ٹانگیں ہیں ہی نہیں کیوں کہ اب کاریں ہی لوگوں کی ٹانگیں بن گئی ہیں۔

چین میں دھند پر قابو پانے کے لیے، حکومت نے ایسے دنوں میں جب آلودگی کی سطح خراب ہوتی ہے، پبلک استعمال کی گاڑیوں کے استعمال میں 30 فیصد کمی کرنا شروع کر دیا ہے۔

بیجنگ میں صحافیوں کو پتہ چلا کہ اس ضابطے کے باوجود، بہت سے لوگ ان احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہیں کہ جب آلودگی بہت زیادہ ہو، تو سرکاری گاڑیاں نہ چلائی جائیں ۔ بیجنگ یوتھ ڈیلی کی ایک رپورٹ کے مطابق، اگرچہ تقریباً 8,000 گاڑیوں کے استعمال کی ممانعت تھی، لیکن تقریباً 900 ڈرائیوروں نے ان احکامات کو نظر انداز کر دیا۔

بیجنگ یونیورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ کے پروفیسر پان ژیاؤچوان کہتے ہیں کہ بعض بنیادی اقدامات پر عمل در آمد سے، موٹر کاروں کی آلودگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پان کے مطابق ’’حکام گاڑیوں سے نکلنے والے بخارات کو کم کرنے کے لیے معیار اونچے کر سکتے ہیں، اور گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایندھن کی کوالٹی بہتر بنانے سے بھی مدد مل سکتی ہے۔‘‘

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ چین میں جو ایندھن استعمال ہوتا ہے اس کی کوالٹی خراب ہے کیوں کہ اس میں سلفر کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ ملک میں آلودگی کے مسئلے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ لیکن ایندھن کی کوالٹی بہتر بنانے سے چین کے لیے کچھ مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں کیوں کہ سستی توانائی ملک کی ترجیح ہے۔

پان کا کہنا ہے کہ اگر ایندھن کی کوالٹی بہتر بنانے کی کوششیں کی گئیں، تو اس کی قیمتوں میں یقیناً اضافہ ہو جائے گا، اور یہ ایسی چیز ہے جسے عام لوگوں کو قبول کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایندھن کی کوالٹی اور گاڑیوں کے معائنے کے معیار وں پر توجہ دینے کے علاوہ، بیجنگ جیسے شہروں میں ٹریفک کے ہجوم کے مسئلے پر توجہ دینا بھی انتہائی اہم ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جب گاڑیاں ٹریفک میں پھنس جاتی ہیں اور کم رفتار سے حرکت کرتی ہیں، تو ایسی صورت میں وہ پانچ سے دس گنا زیادہ آلودگی پیدا کرتی ہیں۔
XS
SM
MD
LG