رسائی کے لنکس

چین: غریبوں کو سہولتوں کی فراہمی میں نمایاں بہتری


گیلپ آرگنائزیشن کے ایک نئے مطالعاتی جائزے سے ظاہر ہواہے کہ چین میں ایسے افراد کی تعداد کم ہوگئی ہے جنہیں اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔

منگل کو جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے سال چین کی انتہائی غریب آبادی میں، جو کل آبادی کا پانچواں حصہ ہیں، ایسے افراد صرف چھ فی صد ہیں جن کے پاس خوراک کی خرید کے لیے کافی رقم نہیں تھی۔

یہ شرح 2008ء کے مقابلے میں 23 فی صد کم ہے۔

صرف 14 فی صد انتہائی غریبوں کا یہ کہناتھاکہ انہیں اپنی رہائش کے اخراجات پورے کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے جب کہ اس سے قبل یہ شرح 28 فی صد تھی۔

رائے عامہ کے جائزے مرتب کرنے والی امریکہ میں قائم ادارے گیلپ کا کہناہے کہ صورت حال میں اس بہتری کی وجہ امکانی طورپر عالمی اقتصادی بحران سے چین کے باہر نکلنے میں کامیابی اور حال ہی میں بیجنگ کا غربت کے خاتمے کے لیے اپنے منصوبوں کا دائرہ بڑھانا ہے۔

چین میں زیادہ تر غریب خاندانوں کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے اور ان کی حالت میں بہتری حکومت کے کئی حالیہ منصوبوں کے باعث آئی ہے جن میں خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مقابلے کے لیے امداد کی فراہمی اور دیہی علاقوں کی فلاح وبہبود کے پروگرام شامل ہیں۔

چین میں ان افراد کو غریب تصور کیا جاتا ہے جن کی روزانہ آمدنی ایک ڈالر فی کس سے کم ہو۔ جب کہ خط غربت کے لیے عالمی بینک کا مقرر کردہ معیار ایک ڈالر 25 سینٹ فی کس روزانہ ہے۔

XS
SM
MD
LG