رسائی کے لنکس

چینی صدر تاریخی دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے


منگل کو واشنگٹن میں اپنی آمد کے بعد اینڈروز ایر فورس ایرپورٹ پر استقبالیہ تقریب میں چینی صدر ہو جنتاؤ امریکی نائب صدر جوزف بائڈن کے ساتھ

منگل کو واشنگٹن میں اپنی آمد کے بعد اینڈروز ایر فورس ایرپورٹ پر استقبالیہ تقریب میں چینی صدر ہو جنتاؤ امریکی نائب صدر جوزف بائڈن کے ساتھ

چین کے صدر ہو جِن تاؤ سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے ہیں۔ وائس آف امریکہ کے نمائندے کینٹ کلائین نے وائٹ ہاؤس سے اپنی خبر میں اوباما انتظامیہ کے عہدے داروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ مسٹر ہو سے ملاقاتوں میں مشکل معاملات کو اُٹھانے سے احتراز نہیں کیا جائے گا۔
اپنے دو روزہ دورے میں، صدر ہو صدر براک اوباما کے ساتھ دو ضیافتوں میں شریک ہوں گے۔ چینی رہنما کو بدھ کو وائٹ ہاؤس میں دی جانے والی کھانے کی سرکاری ضیافت 13برس میں پہلی بارمنعقد ہو رہی ہے، جو دو سال قبل مسٹر اوباما کی طرف سے عہدہ سنبھالنے کے بعد تیسرا اسٹیٹ ڈنر ہوگا۔

بدھ کی صبح آمد کی ایک باضابطہ تقریب کے بعد دونوں صدور اپنی بات چیت جاری رکھیں گے جس میں دونوں صدر تنہائی میں ملاقات کریں گے، جس کے بعد بڑی سطح کی ملاقات ہوگی جس میں مشیران شریک ہوں گے۔

دونوں اطراف سے تعاون بڑھانے کی خواہش کا ا ظہار کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گِبز نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو تعاون پر منحصر لیکن مقابلے کی نوعیت کا قرار دیا ہے۔

قبل ازیں وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ چین کو اپنی یان کرنسی کو مارکیٹ ویلیو کے لحاظ سے مضبوط ہونے کے لیے اقدامات کی اجازت دینا ہوگی اور یہ بات دنیا کے کئی ممالک بھی محسوس کرتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبس نے منگل کو چینی صدر کی واشنگٹن آمد سے چند گھنٹے پہلے یہ بات صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

پیر کو تین ڈیمو کریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے تین قانون سازوں نے چین پر اپنی کرنسی کی قدر بڑھانے کے لیے کانگریس میں ایک بل بھی متعارف کروایا ہے۔ چین نے اسی ھفتے امریکی کمپنیوں کے ساتھ 600 ملین ڈالر کی تجارتی ڈیلز کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ مزید ڈیلز بھی ممکن ہیں۔

چینی صدر ہوجن تاؤ امریکہ کے سرکاری دورے پر منگل کو واشنگٹن پہنچ رہے ہیں جہاں ایک جانب تو ان کے استقبال کی تیاریاں جاری ہیں تو دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان موجود زرِ مبادلہ سے متعلق تنازعات ایک بار پھر سر اٹھا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق چینی انتظامیہ یوآن کی قدر کو کم رکھ کر بیرونِ ملک تجارت میں فائدہ اٹھاتی ہے جسے کئی ممالک ناجائز تصور کرتے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یوآن کی قدر میں اضافہ سے چینی مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا جس سے دونوں ممالک کے درمیان موجود اس تجارتی عدم توازن پر قابو پانے میں مدد ملے گی جس کا فائدہ چین اٹھاتا ہے۔

تاہم دورے سے قبل دو معروف امریکی اخبارات کو دیے گئے اپنے بظاہر "مفاہمانہ" انٹرویوز میں چینی صدر نے کرنسی کی قدر کے معاملے پر اختیار کردہ چینی پالیسی میں کسی تبدیلی کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔

امریکی اخبارات "واشنگٹن پوسٹ" اور "وال اسٹریٹ جنرل" کو دیے گئے اپنے انٹرویوز میں چینی رہنما نے امریکی کرنسی ڈالر کی بنیاد پر چلنے والے زرِ مبادلہ کے عالمی نظام کو "ماضی کی یادگار" قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

پیر کے روز شائع ہونے والے انٹرویوز میں صدر ہوجن تاؤ نے امریکہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ عالمی نظام میں ڈالرز کی فراہمی کو "قابلِ فہم" حد تک محدود رکھے۔ چینی صدر کا یہ بیان امریکہ کے مرکزی بینک کی جانب سے گزشتہ سال کے اختتام پر عالمی معاشی نظام میں اضافی 600 ارب ڈالرز کے اجراء کے فیصلے کے ردِ عمل میں دیا گیا ہے۔

تاہم اپنے انٹرویوز میں چینی صدر نے دونوں ممالک پر اقتصادی میدان میں موجود باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے "مشترکات" پر اتفاق کی بنیاد پر تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔

چینی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو "سرد جنگ کے دوران پنپنے والی اس ذہنیت" سے چھٹکارا پانا ہوگا جس میں ایک ملک کا فائدہ دوسرے کا نقصان سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوطرفہ تعلقات میں بہتری کا فائدہ چین اور امریکہ دونوں کو پہنچے گا اور تصادم کی صورت میں دونوں ہی نقصان اٹھائینگے۔

XS
SM
MD
LG