رسائی کے لنکس

چینی صدر کے دورے کے دوران چین اور بھارت اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق مفاہمت کی تین یاداشتوں پر دستخط کریں گے۔

چین کے صدر ژی جنپنگ بھارت کے تین روزہ سرکاری دورے پر بدھ کو احمدآباد پہنچے۔

بطور چینی صدر یہ بھارت کا ان کا پہلا دورہ ہے۔ چین کی خاتون اول پنگ لیو آن بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

چینی صدرکی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی چینی وفد بھی ان کے ہمراہ ہے جس میں وزیر خارجہ، وزیر تجارت اور دوسرے اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں۔

چینی صدر کا احمدآباد پہنچنے پر گجرات کے وزیراعلیٰ نے استقبال کیا۔ جنپنگ بدھ کو دیر گئے بھارتی درالحکومت دہلی جائیں گے جہاں وہ بھارتی صدر پرنب مکھر جی اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بات چیت کریں گے۔

چینی صدر نے دورہ بھارت سے پہلے ایک بیان میں کہا کہ دونوں ملک دوطرفہ تعاون سے عالمی اقتصادی ترقی کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ایشیائی معیشت کے دو انجنوں کے طور پر، ہمیں ترقی کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ طور پر تعاون کرنے کی ضرورت ہے،"

انہوں نے کہا کہ مصنوعات کی پیداوار میں چین کی مضبوط بنیاد اور بھارت کی سافٹ ویئر اور سائنسی مہارت کی پیداوار کی بنا پر صارفین کی ایک بڑی مارکیٹ پیدا کرنے کے امکانات موجود ہیں۔

چین اور بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دو سب سے بڑے ملک ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان سالانہ تجارتی حجم 65 ارب ڈالر ہے اور اس کا توازن چین کے حق میں ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی چاہیں گے کہ بھارت کی آئی ٹی کی خدمات اور ادویات کی برآمدات کو چین کے لیے بڑھایا جائے تاکہ تجارتی حجم کو بھارت کے حق میں بہتر کیا جائے۔

چینی صدر کے دورے کے دوران دونوں ملک اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق مفاہمت کی تین یاداشتوں پر دستخط کریں گے۔

چینی صدر ایک ایسے وقت میں بھارت کا دورہ کر رہے ہیں جب دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازع کے باعث متنازع سرحد پر صورت حال کشیدہ ہے۔

چین اور بھارت کے درمیان سرحدی معاملات پر اختلاف ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان 1962 میں ایک جنگ بھی ہو چکی ہے۔ بھارتی اور چینی عہیدیداروں کے درمیان اس معاملے کو حل کرنے کے لیے کئی بار مذاکرات بھی ہو چکے ہیں۔

بھارت آنے سے پہلے چینی صدر ژی جنپنگ نے سری لنکا اور مالدیپ کا دورہ بھی کیا۔

XS
SM
MD
LG