رسائی کے لنکس

چین کے صدر کا دورہ پاکستان خطے کے لیے بہت اہم: مبصرین کی رائے


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سینیئر تجزیہ کار پروفیسر سجاد نصیر کہتے ہیں کہ چین کے پاکستان کے ساتھ مل کر شروع کیے گئے منصوبوں سے وہ خطے میں جہت تبدیل ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

چین کے صدر ژی جنپنگ دو روزہ سرکاری دورے پر پیر کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں اور پاکستانی عہدیدار اور مبصرین اسے نہ صرف دونوں ملکوں بلکہ خطے کے لیے بھی خاصا اہم دورہ قرار دے رہے ہیں۔

2013ء میں منصب صدارت سنبھالنے کے بعد صدر ژی کا یہ پہلا دورہ پاکستان ہے۔ انھوں نے گزشتہ برس پاکستان آنا تھا لیکن پاکستانی حکام کے بقول اسلام آباد میں حکومت مخالف دھرنوں اور ملک میں جاری سیاسی بدامنی کے باعث یہ دورہ ملتوی کر دیا گیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اس دورے میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کے علاوہ توانائی، مواصلات اور دیگر شعبوں میں تعاون کے متعدد منصوبوں کے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

چینی صدر کے دورہ پاکستان میں سب سے زیادہ توجہ اربوں ڈالر کے مجوزہ اقتصادی راہداری منصوبے پر مرکوز ہوگی۔ اس منصوبے کے تحت چین کے شہر کاشغر سے لے کر پاکستان کے علاقے گوادر تک سینکڑوں کلومیٹر لمبی شاہراہ تعمیر کی جائے گی۔

مبصرین اس منصوبے کو دونوں ملکوں کے علاوہ خطے میں ترقی و خوشحالی کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔

ماہر اقتصادیات قیصر بنگالی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس منصوبے سے اقتصادی ترقی کی راہ ہموار ہوگی جس سے بدامنی اور شورش پر قابو پانے میں بھی نمایاں مدد ملے گی۔

"کہا جاتا ہے کہ اگر آپ تجارت اور اقتصادی تعلقات قائم کر لیں تو امن کے لیے راستہ کھل جاتا ہے۔ یہاں پر بھی ہم اُمید کر سکتے ہیں کہ اگر یہ علاقے میں اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع کھل جاتے ہیں تو پھر یہ چھوٹی چھوٹی شورش پسندی جو ہے ہر جگہ پر وہ قابو ہو جائے گی۔ چین میں بھی ایسی شورش پسندی ہے، پاکستان میں بھی ہے، افغانستان میں بھی ہے یہ اقتصادی ترقی سے کچھ بہتری ہو سکتی ہے۔"

چین دنیا کی ایک بڑی اقتصادی قوت ہے اور پاکستان کے ساتھ اقتصادی و معاشی منصوبوں میں شراکت داری پر امریکہ اور بھارت کے بعض حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ یہ خطے میں چین کی بالادستی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ لیکن ان دونوں ملکوں کی طرف سے سرکاری طور پر اس بارے میں کسی طرح کے ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔

سینیئر تجزیہ کار پروفیسر سجاد نصیر کہتے ہیں کہ چین کے پاکستان کے ساتھ مل کر شروع کیے گئے منصوبوں سے وہ خطے میں جہت تبدیل ہوتے ہوئے تو دیکھتے ہیں لیکن ان کے نزدیک امریکہ اور بھارت اس بارے میں کسی قسم کی مخالفت سے احتراز برتیں گے۔

"چین اور امریکہ کی جو تجارت ہے وہ بڑی اہم ہے اور گلوبل استحکام کے لیے دونوں اسٹیک ہولڈر ہیں تو اب سوال یہ ہے کہ یہ جو نئی جہت ہے اس میں کیا اب امریکہ کے جو اقتصادی رابطے چین کے ساتھ اور بھارت کی بھی 70 بلین کی تجارت ہے چین کے ساتھ تو کیا یہ ساری چیزیں وہ داؤ پر لگائیں گے، کس کے لیے؟ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت چین اور امریکہ وہ گلوبل استحکام کے بنیادی فریق ہیں اور وہ بڑی احتیاط سے ایک دوسرے کی طرف چل رہے ہیں۔"

اقتصادی راہداری کے منصوبے سے متعلق یہ خبریں بھی منظر عام پر آئی تھیں کہ اس کے روٹ میں تبدیلی کرتے ہوئے صوبہ خیبرپختونخواہ کو قدرے نظر انداز کر دیا گیا۔ اس بارے میں بعض سیاسی و سماجی حلقوں کی طرف سے صدائے احتجاج بھی بلند کی گئی۔

اتوار کو ہی اسلام آباد میں خیبر پختونخواہ سے آئے سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس میں شامل پشاور یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر ناصر احمد نے اپنے تحفظات کا کچھ یوں اظہار کیا۔

"ہمارے پسماندہ علاقے ہیں جو دہشت گردی اور جنگ سے متاثر ہوئے اور افغانستان میں 40 سال کی جنگ کی وجہ سے ان کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہم چاہتے ہیں کہ یہ منصوبہ ہمیں ملے تاکہ ہمارا علاقہ ترقی کرے ہم روٹ کی تبدیلی کی بات نہیں کر رہے ہیں ہمیں یہ منصوبہ ملنا چاہیے۔"

تاہم وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے صحافیوں سے گفتگو میں ان تمام قیاس آرائیوں اور تحفظات کو رد کرتے ہوئے کہا۔

"میں اس تاثر کی پر زور تردید کرنا چاہتا ہوں کہ جو کسی غلط معلومات کی وجہ سے پھیلا کہ روٹ میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے کہ یہ کہیں جائے گا اورکہیں نہیں جائے گا ۔ یہ قومی منصوبہ ہے اس میں چاروں صوبے شامل ہو ں گے اور اس میں پاکستان کے تمام علاقے کشمیر، گلگت بلتستان سب کے لیے مواقع ہوں گے وہاں صنعتیں لگیں گی اور سڑکوں کا سلسلہ تعمیر ہو گا"۔

چین اور پاکستان کے درمیان قریبی دوستانہ تعلقات ہیں اور حالیہ برسوں میں ان دونوں کے درمیان تجارتی حجم سات ارب ڈالر سے بڑھ کر دس ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ دونوں ملک 2015ء کو پاک چین دوستی کے سال کے طور پر بھی منا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG