رسائی کے لنکس

چینی صدر کا وائٹ ہاؤس میں شاندار استقبال


چینی صدر کا وائٹ ہاؤس میں شاندار استقبال

چینی صدر کا وائٹ ہاؤس میں شاندار استقبال

چین کے صدر ہوجن تاؤ کا آج صبح جب وائٹ ہاؤس پہنچے تو صدربراک اوباما نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر انہیں امریکی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے سلامی دی۔

اس موقع پر ہونے والی تقاریر میں دونوں راہنماؤں نے باہمی تعاون میں اضافے کی اہمیت پر زور دیا، جنہیں کچھ عرصے سے چین کے ساتھ امریکی تجارتی خسارے، چین میں انسانی حقوق کی صورت حال ، اور شمالی کوریا جیسے معاملات پر اختلاف کا سامنا ہے۔

مسٹر ہو اپنے استقبال سے ایک روز قبل ایک عشائیے میں شرکت کرکے کا وائٹ ہاؤس کا غیر سرکاری دورہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے یہ ڈنر وہائٹ ہاؤس کے اولڈ فیملی ڈاننگ روم میں کیا۔ اس عشائیے میں دونوں صدور کے دو دو اعلی ٰ مشیر شریک ہوئے۔ جب کہ چینی راہنما کو آج رات وائٹ ہاؤس میں سرکاری ڈنر دیا جائے گا۔ یہ سرکاری ضیافت 13برس میں پہلی بار ہونے والی ضیافت ہے، اور یہ دو سال قبل مسٹر اوباما کے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد تیسرا اسٹیٹ ڈنر ہوگا۔

چینی صدر کا وائٹ ہاؤس میں شاندار استقبال

چینی صدر کا وائٹ ہاؤس میں شاندار استقبال

چینی صدر کے ڈنر کے موقع پر وائٹ ہاؤس کے باہر پبلک پارک میں سینکڑوں افراد نے تبتیوں کو آزادی نہ دینے اور چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے کینٹ کلائین نے وائٹ ہاؤس سے اپنی خبر میں اوباما انتظامیہ کے عہدے داروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ مسٹر ہو سے ملاقاتوں میں مشکل معاملات کو اُٹھانے سے احتراز نہیں کیا جائے گا۔

بدھ کی صبح استقبالیہ تقریب کے بعد دونوں صدور کے درمیان مختلف امور پر دونوں صدور کے درمیان بات چیت ہوگئی۔ دونوں صدر تنہائی میں بھی ملاقات کریں گے، جس کے بعد بڑی سطح کی ملاقات ہوگی جس میں مشیران شریک ہوں گے۔

دونوںملکوں کی جانب سے تعاون بڑھانے کی خواہش کا ا ظہار کیا جا رہا ہے۔ وہائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گِبز نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو تعاون پر منحصر لیکن مقابلے کی نوعیت کا قرار دیا ہے۔

قبل ازیں وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ چین کو اپنی کرنسی کی قدر میں مارکیٹ کے لحاظ سے اضافہ کرنا ہوگا۔

پیر کو تین ڈیمو کریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے تین قانون سازوں نے چین پر اپنی کرنسی کی قدر بڑھانے کے لیے کانگریس میں ایک بل بھی متعارف کروایا ہے۔ چین نے اسی ہفتے امریکی کمپنیوں کے ساتھ 600 ملین ڈالر کے تجارتی معاہدوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے مزید معاہدوں کا امکان بھی موجود ہے۔

کئی ماہرین کا کہناہے کہ چینی انتظامیہ اپنی کمپنیوں کو غیر ملکی تجارت میں فائدہ پہنچانے کے لیے اپنی کرنسی کی قدر جان بوجھ کر کم رکھ رہی ہے۔

امریکی اخبارات "واشنگٹن پوسٹ" اور "وال اسٹریٹ جنرل" کو دیے گئے اپنے انٹرویوز میں چینی رہنما نے امریکی کرنسی ڈالر کی بنیاد پر چلنے والے زرِ مبادلہ کے عالمی نظام کو’ماضی کی یادگار‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ۔

چینی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو ’سرد جنگ کے زمانے کی سوچ ‘ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوطرفہ تعلقات میں بہتری کا فائدہ دونوں ملکوں کو ہوگا اور گا بصورت دیگر نقصان بھی دونوں کو ہی اٹھانا پڑے گا۔

XS
SM
MD
LG