رسائی کے لنکس

قبائلی علاقوں میں بحالی کے لیے چین کی طرف سے اعانت کا اعلان

  • عشرت سلیم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

شدت پسندی سے متاثرہ شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخوا اور وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کی ترقی اور بحالی کے لیے امداد فراہم کرنے والے ممالک میں امریکہ سر فہرست ہے۔

افغان سرحد کے قریب پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بحالی کے کاموں اور وہاں سے بے گھر ہونے والے افراد کی آباد کاری کے لیے چین ایک کروڑ ڈالر کی نقد گرانٹ فراہم کرے گا۔

پاکستان حکومت کے ایک بیان کے مطابق چین کے اسلام آباد میں سفیر سن وائی ڈونگ اور سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن محمد سلیم سیٹھی نے بدھ کو چین کی طرف سے ایک کروڑ ڈالر کی ’خصوصی گرانٹ‘ کے معاہدے پر دستخط کیے۔

حکومت نے شدت پسندی اور دہشت گردوں کے خلاف ہونے والے فوجی آپریشنوں سے متاثرہ قبائلیوں کی بحالی کے لیے کوششوں کو تیز کر رکھا ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی برادری سے بھی مدد کی اپیل کی گئی ہے۔ چین کی طرف سے امداد بھی انھی کوششوں کی ایک کڑی ہے۔

شدت پسندی سے متاثرہ شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخوا اور وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کی ترقی اور بحالی کے لیے امداد فراہم کرنے والے ممالک میں امریکہ سر فہرست ہے۔

حال ہی میں پاکستان میں امریکہ کے سفیر رچرڈ اولسن نے پشاور کے دورہ پر بتایا تھا کہ امریکہ نے خیبرپختونخوا اور فاٹا کی ترقی کے لیے گزشتہ چھ سالوں کے دوران ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد فراہم کی۔

پاکستان کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، مگر چین کی اقتصادی معاونت عموماً آسان شرائط پر قرضوں اور تجارتی سرمایہ کاری کی صورت میں ہوتی ہے۔

حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر کے معاہدے پر بھی دستخط ہوئے ہیں جو چین کی سرحد پر واقعہ درہ خنجراب سے شروع ہو کر گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں سے ہوتی ہوئی گوادر بندرگاہ تک جائے گی۔

چین نے آئندہ بھی فاٹا کی ترقی میں مدد کے لیے رضامندی کا اظہار کیا ہے، جس سے بظاہر لگتا ہے کہ چین علاقے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔

قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گزشتہ سال جون سے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب جاری ہے، جس کے بعد خیبر ایجنسی میں بھی خیبر ون اور خیبر ٹو کے نام سے فوجی کارروائیاں کی گئیں۔ ان کارروائیوں سے 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے جن میں سے بیشتر خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں عارضی طور پر رہائش پذیر ہیں، جبکہ ان کی ایک قلیل تعداد کو شدت پسندوں سے صاف کرائے گئے علاقوں میں واپس بھی بھیجا جا چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG