رسائی کے لنکس

دلائی لامہ کو متنازع تبت کے دورے کی اجازت پر چین کی تشویش


دلائی لاما (فائل فوٹو)

دلائی لاما (فائل فوٹو)

ایسی بھی اطلاعات سامنے آچکی ہیں کہ بھارت میں بعض قوم پرست گروپوں نے چینی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے جو کہ بیجنگ کے بقول بھارت کے لیے ہی نقصان دہ ہو گی۔

چین نے بھارت کے ساتھ ایک متنازع علاقے میں تبت کے بدھ مت پیروکاروں کے روحانی پیشوا دلائی لاما کو مدعو کرنے کی اجازت دینے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست اروناچل پردیش کی حکومت نے دلائی لاما کو بھارت اور چین کے مشرقی حصے کے علاقے کو آئندہ سال مارچ میں دورہ کرنے کی دعوت دی ہے جس کی نئی دہلی نے بھی اجازت دے دی ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کانگ نے بیجنگ میں نیوزبریفنگ کے دوران اس بارے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کے ملک کو ان اطلاعات پر شدید تشویش ہے اور اگر دلائی لاما کا یہ دورہ ہوتا ہے تو دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچنے کے لیے علاوہ سرحدی علاقوں کا امن و استحکام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

جس علاقے میں دلائی لاما کو دورے کی دعوت دی گئی ہے چین اسے جنوبی تبت کا حصہ تصور کرتے ہوئے اس کی ملکیت کا دعویدار ہے۔

لو کانگ کا کہنا تھا کہ "چین اور بھارت کے درمیان مشرقی سرحد کے اس حصے کے بارے میں چین کا موقف مستقل اور واضح ہے۔ دلائی گروہ چین مخالف علیحدگی پسند کارروائی میں مصروف ہے دونوں ملکوں کے درمیان سرحد کے سوال پر اس کا رویہ بہت ہتک آمیز ہے۔"

ترجمان لو کانگ (فائل فوٹو)

ترجمان لو کانگ (فائل فوٹو)

حالیہ ہفتوں میں چین اور بھارت کے درمیان تعلقات میں تھوڑی سردمہری بھی دیکھنے میں آئی ہے جس کی تازہ مثال "برکس" کے اجلاس میں دیکھی گئی جب بھارت کی طرف سے پڑوسی ملک پاکستان کو دہشت گردی کا حامی ملک قرار دینے کے بیانیے پر چین نے بظاہر نظر انداز کرتے ہوئے دہشت گردی کو عالمی مسئلہ قرار دیتے ہوئے مربوط کوششوں پر زور دیا۔

ایسی بھی اطلاعات سامنے آچکی ہیں کہ بھارت میں بعض قوم پرست گروپوں نے چینی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے جو کہ بیجنگ کے بقول بھارت کے لیے ہی نقصان دہ ہو گی۔

رواں ہفتے ہی بھارت میں امریکی سفیر رچرڈ ورما نے اروناچل پردیش کا دورہ کیا تھا اور اس پر بھی چین کی طرف سے برہمی کا اظہار کیا گیا۔

چین کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کو بھی دلائی لاما سے متعلق بیجنگ کے موقف کا اندازہ ہے اور "ایسی صورتحال میں دلائی لاما کو متنازع علاقے میں اپنی سرگرمیوں کے لیے بھارت کی طرف سے دعوت دیا جانا چین کے ساتھ اس کے تعلقات کو متاثر کرے گا۔"

چین ارونا چل پردیش کو تبت کا حصہ قرار دیتا ہے اور اس سے قبل بھی وہ دلائی لاما کے علاوہ بھارت راہنماؤں اور دیگر غیر ملکی عہدیداروں کے اس علاقے کے دوروں پر تنقید کر چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG