رسائی کے لنکس

بیجنگ میں دانشور کو چار سال قید کی سزا


ژو زییونگ (فائل فوٹو)

ژو زییونگ (فائل فوٹو)

بیجنگ کی ایک عدالت نے ژو کے خلاف فیصلہ اس الزام پر دیا کہ انہوں نے ’’نقص امن کے لیے لوگوں کو جمع کیا‘‘۔

چین کی ایک عدالت نے معروف وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن کو چار سال قید کی سزا سنائی ہے۔

ژو زییونگ نے حال ہی میں یہ مطالبہ کیا تھا کہ انسداد بدعنوانی کی مہم کے تحت سرکاری عہدیدار بھی اپنے اثاثے ظاہر کریں۔

بیجنگ کی ایک عدالت نے ژو کے خلاف اتوار کو یہ فیصلہ اس الزام پر دیا کہ انہوں نے ’’نقص امن کے لیے لوگوں کو جمع کیا‘‘۔

گزشتہ ہفتے ایک روزہ عدالتی کارروائی میں ژو نے خاموشی اختیار رکھتے ہوئے اپنا دفاع نہیں کیا تھا

40 سالہ قانونی دانشور نچلی سطح پر جمہوریت اور قانون کی پاسداری سے متعلق ’’نیو سیٹیزن موومنٹ‘‘ نامی ایک مہم کے بانی ہیں اور ان کا مقصد سرکاری سطح پر بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔

تحریک کے سات دیگر اراکین کے خلاف بھی عدالتی کارروائی ہونے جا رہی ہے۔ دسمبر میں تین کے خلاف عدالتی مقدمہ چلا مگر اب تک سزا نہیں سنائی گئی۔

امریکی وزارت خارجہ ان کارروائیوں پر تنقید کر چکی ہے جس پر بیجنگ کی طرف سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ چینی وزارت خارجہ نے گزشتہ منگل کو کہا تھا کہ بیرونی ملکوں کو اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
XS
SM
MD
LG