رسائی کے لنکس

چین: انسانی حقوق کے وکیل کے خلاف عدالتی کارروائی شروع


 زو زی یونگ (فائل فوٹو)

زو زی یونگ (فائل فوٹو)

ناقدین اس ٹرائیل کو بیجنگ کی طرف سے اپنے مخالفین کو خاموش کرنے کا عمل گردانتے ہیں۔ عدالت کے باہر سخت سیکورٹی تعینات کی گئی جب کہ پولیس نے غیر ملکی صحافیوں کو عدالتی کارروائی میں شرکت یا اس مقام کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی۔

سرکاری عہدیداروں کی بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والے چین کے انسانی حقوق کے کارکن کے خلاف بدھ کو عدالتی کارروائی شروع کردی گئی۔

ناقدین اس مقدمے کو بیجنگ کی طرف سے اپنے مخالفین کو خاموش کرنے کا عمل گردانتے ہیں۔

زو زی یونگ ’’نیو سیٹیزن‘‘ نامی ایک مہم کے روح رواں ہیں جس کا مقصد نچلی سطح تک آگاہی پیدا کرنا اور ان کا چین کے اعلیٰ عہدیداروں سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنے اثاثے ظاہر کریں اور تعلیم میں برابری کا نظام متعارف کریں۔

40 سالہ زو زی یونگ کو عوام میں انتشار پیدا کرنے کے الزام پر گزشتہ سال اگست میں گرفتار کیا گیا۔ چھوٹے پیمانے پر انسانی حقوق کے کارکنوں کے اجلاس منعقد کروانے اور انٹرنیٹ پر حکومت پر تنقید کرنے میں ان کا بہت اہم کردار رہا ہے۔

بیجنگ میں شروع ہونے والی کارروائی میں عدالت کے باہر بڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکار تعینات تھے۔

پولیس نے غیر ملکی صحافیوں کو عدالتی کارروائی میں شرکت یا اس مقام کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی۔

مسٹر زو کے وکیل زیانگ کیونگ فانگ کا کہنا تھا کہ عدالتی کارروائی میں ’’انصاف ہونا بظاہر ممکن نہیں‘‘۔ اگر الزامات ثابت ہو گئے تو ان کو متعدد سالوں کی قید ہو سکتی ہے۔

’’اگر شفاف ٹرائیل ہوا تو ان کا ارادہ ہے کہ وہ اپنا مکمل دفاع کریں گے۔ لیکن اگر شفاف نا ہوا اور عدالت نے انہیں یا ان کے وکیل کو دفاع کا مکمل موقع نا دیا تو وہ ٹرائیل کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے خاموش رہے گے۔‘‘

وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت نے ان کے پانچ گواہان کا بیان لینے سے انکار کردیا اور گزشتہ دو زور سے گواہوں کو محدود کررہی ہے۔

مسٹر زو کو کافی حد تک یقین ہے کہ انہیں مجرم قرار دیا جائے گا کیونکہ عدالت نے کبھی بھی دفاع کے حق میں فیصلہ نہیں دیا اور بالخصوص سیاسی نوعیت مقدمات میں۔

ان کی تحریک کے 6 دیگر اراکین کے خلاف عدالتی کارروائی رواں ہفتے کے اواخر میں ہوگی جبکہ ان کے تین ساتھیوں کا ٹرائیل دسمبر میں ہوا تھا۔
XS
SM
MD
LG