رسائی کے لنکس

چین: سنکیانگ میں ہلاکتوں کی تعداد 35 ہو گئی


فسادی خنجروں اور تیز دار آلات سے مسلح تھے (فائل فوٹو)

فسادی خنجروں اور تیز دار آلات سے مسلح تھے (فائل فوٹو)

تھانوں اور مقامی حکومت کے دفاتر پر حملوں میں دو پولیس اہلکاروں سمیت 24 افراد ہلاک ہوئے جب کہ پولیس کی فائرنگ سے 11 مشتبہ فسادی بھی مارے گئے۔

چین میں حکام نے کہا ہے کہ ملک کے شمال مغربی صوبہ سنکیانگ میں بدھ کو شروع ہونے والے ہنگاموں میں 35 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق تھانوں اور مقامی حکومت کے دفاتر پر حملوں میں دو پولیس اہلکاروں سمیت 24 افراد ہلاک ہوئے جب کہ پولیس کی فائرنگ سے 11 مشتبہ فسادی بھی مارے گئے۔

ژنہوا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 16 ایغور مسلمان بھی شامل ہیں۔

بدھ کی صبح شانشان کے قصبے میں درجنوں افراد پر مشتمل ’’چاقو بردار ہجوم‘‘ نے پولیس تھانوں اور مقامی سرکاری عمارتوں پر دھاوا بول دیا تھا اور خنجروں سے وار کر کے لوگوں کو ہلاک اور زخمی کر دیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

سنکیانگ میں اس سے قبل بھی پر تشدد فسادات ہو چکے ہیں ، خاص طور پر 2009 میں اس علاقے میں آباد ایغور نسل کے مسلمان اور ہان نسل کے چینی باشندوں کے درمیان نسلی فسادات میں 200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد بھی اکا دکا واقعات ہوتے رہے ہیں۔

ایغور نسل سے تعلق رکھنے والوں کہنا ہے کہ علاقے میں اکثریتی ہان لوگوں کی آمد سے ان کے ساتھ مذہبی اور ثقافتی امتیاز برتا جا رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG