رسائی کے لنکس

بحیرہٴ جنوبی چین میں ’کشیدگی کو ہوا دینے‘ پر امریکہ کا اظہارِ تشویش


فائل فوٹو

فائل فوٹو

کیری نے کہا ہے کہ ’’چین کے حوالے سے، ہم اس بات کا بارہا اعادہ کرتے آئے ہیں کہ وہ معیار اختیار کیا جائےجو تمام ملکوں پر لاگو ہوتا ہو۔‘‘ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ آئے دِن اس بات کا پورا ثبوت سامنے آتا رہتا ہے کہ ایک یا دوسری طرح کی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جو بات شدید تشویش کی باعث ہے‘‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جنوبی بحیرہٴ چین میں ’’فوجی کشیدگی میں اضافے‘‘ پر چین پر نکتہ چینی کی ہے، جس سے قبل یہ خبریں گردش کرتی رہی ہین کہ چین نے ایک متنازع جزیرے پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نصب کر دیے ہیں، جس حکمتِ عملی کی حامل آبنائے پر اُس کا قبضہ ہے۔

کیری نےبدھ کے روز کہا کہ ’’چین کے حوالے سے، ہم اس بات کا بارہا اعادہ کرتے آئے ہیں کہ وہ معیار اختیار کیا جائےجو تمام ملکوں پر لاگو ہوتا ہو۔‘‘

تاہم، اُنھوں نے کہا کہ آئے دِن اس بات کا پورا ثبوت سامنے آتا ہے کہ ایک یا دوسری طرح کی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جو بات شدید تشویش کی باعث ہے‘‘۔

کیری نے مزید کہا کہ اُنھیں توقع ہے کہ وہ اِس معاملے پر بہت جلد چین کے ساتھ ’’مزید سنجیدہ گفتگو‘‘ کریں گے۔

چین کے میزائلوں کی تنصیب کے بارے میں پہلی رپورٹ امریکی چینل، ’فوکس نیوز‘ نے نشر کی تھی، جو اُن تصاویر پر مشتمل تھی جو ’امیج سیٹ انٹرنیشنل‘ سیٹلائٹ کے شہری ادارے نے فراہم کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، جزیرہٴ ’ووڈی‘ پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے لائنچر، اور ساتھ ہی ریڈار نظام نصب کیا گیا ہے۔

یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہےجب صدر براک اوباما کی زیر صدارت کیلی فورنیا میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم کے رکن ملکوں کا تاریخی سربراہ اجلاس تکمیل کو پہنچا، جہاں اُنھوں نے خطے میں تحمل کا دامن اپنانے اور متنازع بحری علاقوں میں فوجی سرگرمیوں کو روکنے پر زور دیا۔

​اس سے قبل موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، تائیوان کی وزارتِ دفاع نے بدھ کو کہا کہ چین نے پارسل جزائر میں شامل ایک جزیرے پر میزائل نصب کیے ہیں تاہم ان کی تعداد کے بارے میں نہیں بتایا گیا، لیکن یہ کہا جا رہا ہے کہ چین کا یہ مبینہ اقدام علاقائی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے گا۔

چین کی وزارت خارجہ نے جنوبی بحیرہ چین میں اس کے زیر قبضہ متنازع جزیروں میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے جدید میزائلوں کو نصب کرنے کے متعلق بعض مغربی ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کے متعلق کہا ہے کہ یہ محض قیاس آرائیاں ہیں جو اس علاقے میں چین کی سرگرمیوں کی حقیقت بیان نہیں کرتی ہیں۔

وزیر خارجہ وانگ ژی نے بد ھ کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ مغربی میڈیا اس کی بجائے اس لائٹ ہاؤس پر توجہ دے گا جو چین اس خطے میں تعمیر کر رہا ہے۔

آسٹریلیا کی وزیر خارجہ جو ان دنوں چین کے دورے پر ہیں، نے ایک پریس کانفرنس میں اس خطے (کے ممالک پر) تحمل سے کام لینے پر زور دیتے ہوئے تمام فریقوں سے کہا کہ وہ اپنے جھگڑے پرامن طریقے سے حل کریں اور اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی واضح کیا آسٹریلیا جنوبی بحیرہ چین میں ملکیت کے دعوؤں میں کسی بھی (فریق) کی طرفداری نہیں کرتا۔

امریکہ کی بحیر اوقیانوس کی کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل ہیری ہیرس نے ٹوکیو میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ میزائل کی تنصیب "بحیرہ جنوبی چین کے علاقے میں فوجی موجودگی" کی عکاسی کرتی ہے جس کے متعلق چین کے صدر شی جنپنگ نے وعدہ کیا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔

چین بحیرہ جنوبی چین کے ایک بڑے حصے پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے جہاں کے بحری راستوں کے ذریعے ہر سال پانچ کھرب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے اور چین اس متنازع خطے میں واقع کئی مصنوعی جزائر اور فضائی پٹی بھی تعمیر کر رہا ہے جس پر اس کے ہمسایہ ممالک کو تشویش ہے۔

بحیرہ جنوبی چین میں جزائر کی ملکیت کے معاملے پر چین کا دیگر علاقائی ملکوں کے ساتھ تنازع چلا آ رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG