رسائی کے لنکس

خودسوزی کرنے والی اس تینتیس برس کی خاتون کی شناخت رُکیو کے نام سے گی گئی ہے، جن کا انتقال بدھ کو، صوبہ ٴ سنچوان میں واقع جوننگ زم تھنگ کی بودھ عبادتگاہ میں ہوا

ملک بدر ہونے والوں کے گروپوں کا کہنا ہے کہ جنوب مغربی چین کے تبتی علاقے میں تین چھوٹے بچوں کی ایک ماں فوت ہوگئی ہے جس نے بظاہر چینی عمل داری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے آپ کو آگ لگادی تھی۔

خودسوزی کرنے والی اس تینتیس برس کی خاتون کی شناخت رُکیو کے نام سے گی گئی ہے، جن کا انتقال بدھ کو جوننگ زم تھنگ کی بودھ عبادتگاہ میں ہوا، جوصوبہ ٴ سنچوان میں واقع ہے اور جسے تبتی لوگ نگابا کے نام سے پکارتے ہیں۔

جوننگ فلاحی تنظیم کی سربراہ، سانگ گیاسو نے وائس آف امریکہ کی تبتی سروس کو بتایا کہ احتجاج کرنے والی خاتون تین نوجوان تبتیوں کی پڑوسن تھیں، جنھوں نے اِس سے قبل اِسی سال خود سوزی کی تھی۔ وہ ملک بدری کی زندگی گزارنے والے اُن کے روحانی راہنما، دلائی لاما کی بحفاظت واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

یہ حالیہ ترین فوتگی اُس وقت ہوئی ہے جب قریبی تبت کے خود مختار علاقے میں جہاں تبتی دارالحکومت لھاسا واقع ہےکمیونٹی پر سخت گیر کنٹرول جاری ہے، جہاں اتوار کے دِن خود سوزی کے دو عدد واقعات ہوچکے ہیں۔ لھاسا کا ایک احتجاج کرنے والا موقع پر ہی فوت ہوگیا، جب کہ دوسرے کو اسپتال داخل کرادیا گیا ہے۔

گذشتہ 14ماہ سے جنوب مغربی چین اور ہمسایہ تبت میں چین مخالف احتجاج ہوئے ہیں جن میں بودھوں کے راہب ، راہباؤں اور اُن کے حامیوں نے اپنی آزادی اور دلائی لاما کی واپسی کے لیے آواز بلند کر رکھی ہے۔

XS
SM
MD
LG