رسائی کے لنکس

اعلیٰ چینی عہدیدار ویتنام کا دورہ کریں گے


یو ذینگ شینگ جن (فائل فوٹو)

یو ذینگ شینگ جن (فائل فوٹو)

دونوں ملکوں کے درمیان ’ساؤتھ چائنہ سی‘ پر ملکیت کے تنازعے کے باعث ایک بار پھر اس وقت تلخی میں اضافے ہوا جب ویتنام اپنے موقف کو بین الاقوامی ثالثی عدالت میں لے گیا۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایک اعلیٰ چینی رہنما اس ماہ میں ویتنام کا دورہ کریں گے۔

اس دورے کے بارے میں بیان ایسے وقت دیا گیا جب بحیرہ جنوبی چین سے متعلق ملکیت کے دعوؤں کی وجہ سے ہمسایہ ممالک کے مابین کشیدگی پائی جاتی ہے۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ژنہوا‘ کے مطابق یو ذینگ شینگ جن، چینی پارلیمان کے ایک رسمی مشاورتی ادارے کے سربراہ ہیں جب کہ وہ چین کی کیمونسٹ جماعت کی قیادت میں چوتھے سینیئر عہدے پر فائز ہیں۔

وہ یہ دورہ ویتنام کی کیمونسٹ پارٹی کی دعوت پر کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں اس کے علاوہ کوئی اور تفصیل بیان نہیں کی گئی ہے۔

اس سال مئی میں ویتنام میں چین مخالف پر تشدد مظاہرے اُس وقت شروع ہوئے جب چین کی سرکاری تیل کی کمپنی 'سی این او او سی ' نے گہرے پانی میں تیل کی تلاش کے لیے ایک ارب ڈالر مالیت کی مشینری بحیرہ جنوبی چین یعنی ’ساؤتھ چائنہ سی‘ میں ویتنام کے ساحل سے محض 150 میل کے فاصلے پر نصب کی۔

ان مظاہروں کے بعد چین نے ویتنام کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی اور اپنے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی وہاں بھیجا۔

تاہم دونوں ملکوں کے درمیان تنازع میں ایک بار پھر اس وقت تلخی میں اضافہ ہوا جب ویتنام اپنے موقف کو بین الاقوامی ثالثی عدالت میں لے گیا۔

دونوں ملکوں میں کیمونسٹ جماعتیں بر سر اقتدار ہیں اور ان کی سالانہ باہمی تجارت 50 ارب ڈالر تک بڑھ گئی ہے تاہم ویتنام کو کافی عرصے سے اپنے بڑے ہمسایہ ملک چین سے متعلق کئی شکوک و شبہات ہیں جن میں خاص طور پر پورے بحیرہ جنوبی چین پر بیجنگ کا دعویٰ بھی شامل پے۔

جنوبی بحیرہ چین ’ساؤتھ چائنہ سی‘ کے 90 فیصد علاقے پر چین ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے جب کہ ملائیشیا، برونائی، تائیوان اور فلپاین بھی بحیرہ جنوبی چین کے ممکنہ طور پر توانائی کے ذخائر سے مالامال حصوں پر ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG