رسائی کے لنکس

چین میں مزید 32 افراد کو قید کی سزائیں


فائل فوٹو

فائل فوٹو

چین کی سرکاری نیوز ویب سائیٹ کے مطابق ان افراد پر الزم تھا کہ انہوں نے تشدد والی ویڈیو یا تو ڈاؤن لوڈ کی تھیں یا ان کو کسی اور کو بھیجا تھا ۔

چین میں 32 افراد کو مبینہ طور پر 'انتہا پسند تنظیموں' کے لیے کام کرنے کے الزم میں قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

ان افراد پر الزم تھا کہ انہوں نے تشدد والی ویڈیو یا تو ڈاؤن لوڈ کی تھیں یا ان کو کسی اور کو بھیجا تھا ۔

چین کی سرکاری نیوز ویب سائیٹ کے مطابق جمعرات کو تین افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جبکہ انیس افراد کو چار سے پندرہ سال تک کی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

جن افراد کو سزائیں سنائی گئی ہیں ان کا تعلق ایغور آبادی سے ہے۔

ویب سائیٹ کا مزید کہنا ہے کہ "یہ مقدمہ عام طور موبائل فون اور انٹرنیٹ استعمال کر کے مذہبی انتہا پسندی اور تشدد پر اکسانے والے مواد کے ذریعے دہشت گردی کی تنظیموں کے لیے کام کرنے کے بارے میں ہے"۔

سرکار ی میڈیا کے مطابق چین نے چالیس سے زائد گروہو ں کو ختم کیا ہے جو اس کے بقول ' دہشت گرد گروہ ' تھے اور 23 مئی سے ایک سال کے لیے شروع ہونے والی کارروائی میں سنکیانگ میں 400 سے زائد لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔

جمعرات کو دی جانے والے سزاؤں سے ان گروہوں کی روک تھام کرنا ہے جن کے بارے میں چین کا کہنا ہے کہ وہ تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ چین تشدد کی ان کارروائیوں کا الزام سنکیانگ میں آباد ایغور نسل کے مسلمانوں پر عائد کرتا ہے۔

اس سال مارچ میں جنوب مغربی شہر کن منگ کے ایک ریلوے اسٹیشن پر 29 افراد کو خنجر مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ چینی حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال سنکیانگ میں بدامنی کی وجہ سے تقریباً 200 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ایغور اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ علاقے میں بے چینی کی وجہ سنکیانگ میں ایغور آبادی سے متعلق حکومت کی جبر پر مبنی پالیسیاں ہیں جبکہ چینی حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG