رسائی کے لنکس

صدر شی جنپنگ مسافروں کو بچانے کے لیے "ہر ممکن" اقدام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مسافروں میں اکثریت 50 سے 80 سال کے لوگوں کی ہے۔

چین میں ایک مسافر بحری جہاز ڈوبنے سے درجنوں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی "شینخوا" کے مطابق دریائے یانگزے میں اس جہاز پر 450 افراد سوار تھے کہ پیر کو دیر گئے یہ شدید طوفان کی زد میں آنے کے بعد ڈوب گیا۔

منگل کی صبح تک صرف 15 لوگوں کو زندہ بچایا جا سکا جب کہ پانچ لاشیں بھی برآمد کی جاچکی ہیں۔ شدید ہواؤں اور بارش کی وجہ سے یہاں امدادی کام متاثر ہو رہا ہے۔

منگل کو بعد از دوپہر امدادی کارکن ایک 65 سالہ خاتون کو بحفاظت پانی سے نکالنے میں کامیاب ہوئے۔

باور کیا جاتا ہے کہ مسافروں کی اکثریت غرقاب کشتی کے اندر ہی پھنسی ہوئی ہے۔ پیپلز ڈیلی اخبار کے مطابق امدادی کارکنوں کی طرف سے کشتی کے نچلے عرشے سے لوگوں کے پھنسے ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

فی الوقت اس حادثے کی وجوہات واضح نہی ہو سکی ہیں۔ یہ جہاز نانجنگ سے چونگ کنگ جا رہا تھا کہ طوفان کی زد میں آگیا۔

وزیراعظم لی کیچیانگ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں اور منگل کو علی الصبح امدادی ٹیم کے ہمراہ اس علاقے میں پہنچے جہاں سے غرقاب کشتی سے تلاش اور امداد کی سرگرمیاں جاری ہیں۔

صدر شی جنپنگ مسافروں کو بچانے کے لیے "ہر ممکن" اقدام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مسافروں میں اکثریت 50 سے 80 سال کے لوگوں کی ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق ڈوبنے والی کشتی چونگ کنگ ایسٹرن شپنگ کارپوریشن کی ملکیت ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کشتی پر 534 افراد کو لے جانے کی صلاحیت تھی۔

XS
SM
MD
LG